براہین احمدیہ حصہ چہارم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 659 of 849

براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 659

روحانی خزائن جلد ۱ براہین احمدیہ حصہ چہارم اندھیرے میں بیٹھنے والے اُس روشنی سے آہستہ آہستہ منتفع ہو جائیں اور جو یکدفعی انتقال میں حیرت و وحشت متصور ہے وہ بھی نہ ہوسواسی طرح جب دنیا پر روحانی تاریکی طاری ہوتی ہے تو خلقت کو روشنی سے منتفع کرنے کے لئے اور نیز روشنی اور تاریکی میں جو فرق ہے وہ فرق ظاہر کرنے کے لئے خدائے تعالیٰ کی طرف سے آفتاب صداقت نکلتا ہے اور پھر وہ آہستہ آہستہ دنیا پر طلوع کرتا جاتا ہے۔ اور پھر فرمایا کہ خدائے تعالیٰ کا یہ قانون قدرت ہے کہ جب زمین مر جاتی ہے تو وہ نئے سرے زمین کو زندہ کرتا ہے۔ ہم نے کھول کر یہ نشان بتلائے ہیں تا ہو کہ لوگ (۵۴۹ بعض شریر اور کینہ پرور آدمی جنہوں نے ضد اور نفسانیت پر مضبوطی سے قدم مار رکھا ہے۔ اور جن کو تعصب کی تند اندھیری نے بالکل اندھا کر دیا ہے وہ لوگوں کو یہ کہہ کر بہکاتے (۵۵۰) ہیں کہ جس قدر لطائف و نکات قرآن کے مسلمان لوگ ذکر کرتے ہیں اور جس قدر کرب دور ہوا۔ تفصیل اس کی یہ ہے کہ اس رو یا صادقہ میں کہ ایک کشف صریح کی قسم تھی ۔ (۵۵۰ یہ معلوم کرایا گیا تھا کہ ایک کھتری ہند و بشمبر داس نامی جواب تک قادیان میں بقید حیات موجود ہے مقدمہ فوجداری سے بری نہیں ہو گا مگر آدھی قید تخفیف ہو جائے گی لیکن اُس کا دوسرا ہم قید خوشحال نامی کہ وہ بھی اب تک قادیان میں زندہ موجود ہے ساری قید بھگتے گا سو اس مجز و کشف کی نسبت یہ ابتلا پیش آیا کہ جب چیف کورٹ سے حسب پیشگوئی اس عاجز مثل مقدمه مذکورہ واپس آئی تو متعلقین مقدمہ نے اس واپسی کو بریت پر عمل کر کے گاؤں میں یہ مشہور کر دیا کہ دونوں ملزم جرم سے بری ہو گئے ہیں مجھ کو یاد ہے کہ رات کے وقت میں یہ خبر مشہور ہوئی اور یہ عاجز مسجد میں عشاء کی نماز پڑھنے کو تیا ر تھا کہ ایک نے نمازیوں میں سے بیان کیا کہ یہ خبر بازار میں پھیل رہی ہے اور ملزمان گاؤں میں آ گئے ہیں ۔ سو چونکہ یہ عاجز علانیہ لوگوں میں کہہ چکا تھا کہ دونوں مجرم ہرگز جرم سے بری نہیں ہوں گے اس لئے جو کچھ غم اور قلق اور کرب اس وقت گزرا سو گز را۔ تب خدا نے کہ جو اِس عاجز بندہ