براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 658
روحانی خزائن جلد ۱ براہین احمدیہ حصہ چہارم اختلاف نہیں ۔ اور پھر فرمایا کہ کیا تو خدا کی طرف دیکھتا نہیں کہ وہ کیونکر سایہ کو لمبا کھینچتا ہے یہاں تک کہ تمام زمین پر تاریکی ہی دکھائی دیتی ہے اور اگر وہ چاہتا تو ہمیشہ تاریکی رکھتا اور کبھی روشنی نہ ہوتی لیکن ہم آفتاب کو اس لئے نکالتے ہیں کہ تا اس بات پر دلیل قائم ہو کہ اُس سے پہلے تاریکی تھی یعنی تا بذریعہ روشنی کے تاریکی ۵۴۸) کا وجود شناخت کیا جائے کیونکہ ضد کے ذریعہ سے ضد کا پہچاننا بہت آسان ہو جاتا ہے اور روشنی کا قدر و منزلت اُسی پر کھلتا ہے کہ جو تاریکی کے وجود پر علم رکھتا ہو اور پھر فرمایا کہ ہم تاریکی کو روشنی کے ذریعہ سے تھوڑا تھوڑا دور کرتے جاتے ہیں تا سے باز نہ آوے تو ایسے بے حیا متقلب الفطرت کا اس دنیا میں علاج نہیں ہو سکتا اس کے ۵۴۹ ۵۴۹ نمبر لئے وہی علاج ہے جس کا خدا نے اپنے قول فیصل میں وعدہ فرمایا ہے۔ والدہ کا الہام صرف شکوک اور شبہات کا ذخیرہ تھا اور قطعی اور یقینی نہ تھا تو ان کو کب جائز تھا۔ کہ وہ کسی بے گناہ کی جان کو خطرہ میں ڈالتے یا ہلاکت تک پہنچاتے یا کوئی دوسرا ایسا کام کرتے جو شرعاً وعقلاً جائز نہیں ہے ۔ آخر یقینی علم ہی تھا جس کے باعث سے وہ کام کرنا ان پر فرض ہو گیا تھا اور وہ امور اُن کے لئے روا ہو گئے کہ جو دوسروں کے لئے ہرگز روا نہیں ۔ پھر ماسوا اس کے ذرا انصافا سوچنا چاہیے کہ کوئی امر مشہود و موجود کہ جو بپا یہ صداقت پہنچ چکا ہو اور تجارب صحیحہ کے رو سے راست راست ثابت ہوتا ہو صرف فلمی خیالات سے متزلزل نہیں بوستا والظَّنَّ لا يُغْنِي عَنِ الْحَقِّ شَيْئًا - سو اس عاجز کے الہامات میں کوئی ایسا امر ہیں ہے جو زیر پردہ اور مخفی ہو بلکہ یہ وہ چیز ہے کہ جو صد ہا امتحانوں کی بو تہ میں داخل ہو کر سلامت نکلی ہے اور خداوند کریم نے بڑے بڑے تنازعات میں فتح نمایاں بخشی ہے اس مقام میں یاد آیا کہ جو رویا صادقہ حصہ سوم میں ایک ہندو کے مقدمہ کے بارہ میں لکھی گئی ہے اس میں بھی ایک عجیب نزاع وانکار کے موقع پر الہام ہوا تھا جس سے ایک بڑا قلق اور