براہین احمدیہ حصہ چہارم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 642 of 849

براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 642

روحانی خزائن جلد ۱ ۶۴۰ براہین احمدیہ حصہ چہارم جو ظاہری صورت مناسب ہو وہ اس کو عطا فرماتا ہے۔ سو چونکہ لیلۃ القدر کی حقیقت باطنی وہ کمال ضلالت کا وقت ہے جس میں عنایت الہیہ اصلاح عالم کی طرف متوجہ ہوتی ہے سو خدائے تعالیٰ نے بغرض تحقق مناسبت اس زمانہ ضلالت کی آخری جز کو جس میں ضلالت اپنے نکتہ کمال تک پہنچ گئی تھی خارجی طور پر ایک رات میں مقرر کیا اور یہ رات وہ رات تھی جس میں خداوند تعالیٰ نے دنیا کو کمال ضلالت میں پا کر اپنے پاک کلام کو اپنے نبی پر اتار نا ارادہ فرمایا۔سو اس جہت سے نہایت درجہ کی برکات اس رات میں پیدا ہوگئیں یا یوں کہو کہ قدیم سے اسی ارادہ قدیم کے رو سے پیدا تھی اور پھر اُس خاص رات میں وہ قبولیت اور برکت ہمیشہ کے لئے باقی رہی اور پھر بعد اس کے فرمایا کہ وہ ظلمت کا وقت کہ جو اندھیری رات سے (۵۳۵) مشابہ تھا جس کی تنویر کے لئے کلام الہی کا نور اترا اُس میں بباعث نزولِ قرآن اس طرف ذرا بھی توجہ نہ کی یہاں تک کہ جس دنیا سے انہوں نے پیار کیا اور ربط بڑھایا تھا آخر بصد حسرت اس کو چھوڑ کر اور تمام درہم و دینار سے بچجوری جدا ہو کر اس دارا افتا سے کوچ کر گئے 11 بقیه حاشیه در حاشیه نمبر ۳ اور بہت سی غفلت اور ظلمت اور ضلالت اور کفر کے پہاڑ اپنے سر پر لے گئے اور اُن کے سفر آخرت کی خبر بھی کہ جو اُن کو میں اکتو بر ۱۸۸۳ء میں پیش آیا تخمیناً تین ماہ پہلے خداوند کریم نے اس عاجز کو دے دی تھی چنانچہ یہ بر بعض آریہ کو بتلائی بھی گئی تھی ۔ خیر یہ سفر تو ہر ایک کو در پیش ہی ہے اور کوئی آگے اور کوئی پیچھے اس مسافر خانہ کو چھوڑنے والا ہے مگر یہ افسوس ایک بڑا افسوس ہے و از سر صدق و ثبات وغم خوری روزگاری ے در حضور ما بری عالمی بینی ز ربانی نشاں سوئے رحماں خلق و عالم راکشاں گر خلاف واقعه گفتم سخن راضیم گر تو سرم پری ز تن از سر کیس با صد آزارم کشند راضیم گر خلق بردارم کشند