براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 638
روحانی خزائن جلد ۱ ۶۳۶ براہین احمدیہ حصہ چہارم کی خوبی اور زیبائی اسی سے ظاہر ہوتی ہے کیونکہ خوبصورت کا قدر و منزلت بدصورت سے ہی معلوم ہوتا ہے اس لئے حکمت الہیہ نے یہی چاہا کہ ظلمت اور نور علی سبيل التبادل دنیا میں دور کرتے رہیں ۔ جب نو ر اپنے کمال کو پہنچ جائے تو ظلمت قدم بڑھا وے ۔ اور جب ظلمت اپنے انتہائی درجہ تک پہنچ جائے تو پھر نو را پنا پیارا چہرہ دکھاوے سواستیلا ظلمت کا نور کے ظہور پر ایک دلیل ہے اور استیلا نور کا ظلمت ۵۳۲) کے آنے کا ایک سبیل ہے ۔ ہر کمال راز والے مثل مشہور ہے سو اس آیت میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ جب ظلمت اپنے کمال کو پہنچ گئی اور بر و بحر ظلمت طرف دعوت کی اور آخرت کی رسوائی یاد دلائی اور ان کے مذہب اور اعتقاد کا سراسر باطل ہونا بر این قطعیہ سے اُن پر ظاہر کیا اور نہایت عمدہ اور کامل دلائل سے بادب تمام ان پر ثابت کر دیا کہ دہریوں کے بعد تمام دنیا میں آریوں سے بدتر اور کوئی مذہب نہیں کیونکہ یہ لوگ خدائے تعالی کی سخت درجہ پر تحقیر کرتے ہیں کہ اس کو خالق اور رب العالمین نہیں سمجھتے اور تمام عالم کو یہاں تک کہ دنیا کے ذرہ ذرہ کو اس کا شریک ٹھہراتے ہیں اور صفت قدامت اور ہستی حقیقی میں اس کے برابر سمجھتے ہیں اگر ان کو کہو کہ کیا تمہارا پر میشر کوئی روح پیدا کر سکتا ہے یا کوئی ذرہ جسم کا وجود میں لاسکتا ہے یا ایسا ہی کوئی اور زمین و آسمان بھی بنا سکتا ہے یا کسی اپنے عاشق صادق کو نجات ابدی دے سکتا ہے اور بار بار کتا بلا بننے سے بچا سکتا ہے یا اپنے کسی محبت خالص کی تو بہ قبول کر سکتا ہے تو ان سب باتوں کا یہی جواب ہے کہ ہرگز نہیں اس کو یہ قدرت ہی ۵۳۲ ۵۳۲ بقیه حاشیه نمبر 11 بقيه حاشیه در حاشیه نمبر یک گر خواهی بیانگر نیما صد نشان صدق شان مصطفی پر ورو ہاں بیا اے دیده بسته از حسد تا شعاعش پرده تو صادقان را نور حق تابد مدام کاذباں مردند و شد تر کی تمام مہر درخشان خداست بر عدوش لعنت ارض و سماست مصطفى