براہین احمدیہ حصہ چہارم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 639 of 849

براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 639

روحانی خزائن جلد ۱ ۶۳۷ براہین احمدیہ حصہ چہارم سے بھر گئے تو ہم نے مطابق اپنے قانون قدیم کے نور کے نشان کو ظاہر کیا تا دانشمند لوگ قادر مطلق کی قدرت نمایاں کو ملاحظہ کر کے اپنے یقین اور معرفت کو زیادہ کریں ۔ اور پھر بعد اس کے فرمایا اِنَّا اَنْزَلْنَهُ في لَيْلَةِ الْقَدْرِ الخ اس سورۃ کا حقیقی مطلب جو ایک بھاری صداقت پر مشتمل ہے جیسا کہ ہم پہلے بھی لکھ چکے ہیں اس قاعدہ گلی کا بیان فرمانا ہے کہ دنیا میں کب اور کس وقت میں کوئی کتاب اور پیغمبر بھیجا جاتا ہے۔ سو وہ قاعدہ یہ ہے کہ جب دلوں پر ایک ایسی غلیظ ظلمت طاری ہو جاتی ہے کہ نہیں کہ ایک ذرہ اپنی طرف سے پیدا کر سکے اور نہ اس میں یہ رحیمیت ہے کہ کسی اوتار یا کسی رکھی یا منی کو یا کسی ایسے کو بھی کہ جس پر ویدا تر ہو ہمیشہ کے لئے نجات دے اور پھر اس کا مرتبہ ملحوظ رکھ کر مکتی خانہ سے باہر دفعہ نہ کرے اور اپنے اُس پیارے کو جس کے دل میں پر میشر کی (۵۳۳﴾ پریت اور محبت رچ گئی ہے بار بار کتا بلا بنے سے بچاوے۔ اشیه نمبراا بقيه حاشیه در حاشیه نمبر مگر افسوس کہ پنڈت صاحب نے اس نہایت ذلیل اعتقاد سے دست کشی اختیار نہ کی اور اپنے تمام بزرگوں اور اوتاروں وغیرہ کی اہانت اور ذلت جائز رکھی مگر اس ناپاک اعتقاد کو نہ چھوڑا ۔ اور مرتے دم تک یہی ان کا ظن رہا کہ گو کیسا ہی اوتار ہو رام چندر ہو یا کرشن ہو یا خود وہی ہو جس پر ویدا ترا ہے پر میشور کو ہرگز منظور ہی نہیں کہ اس پر دائمی فضل کرے بلکہ وہ اوتار بنا کر پھر بھی انہیں کو کیڑے مکوڑے ہی بناتا رہے گا وہ کچھ ایسا سخت دل ہے کہ عشق اور محبت کا اس کو ذرا پاس نہیں اور ایسا ضعیف ہے کہ اس میں خود بخود بنانے کی ذرہ طاقت نہیں۔ این نشان لعنت آمد کائیں خساں مانده اندر ظلمتی چوں شہراں العالمیں رب ل القدر : ٢ نے دل صافی نہ عقلے راہ میں رائدة ره درگاه جان کنی صد کن بكين مصطفى نه بینی جز بدین مصطفی تانه نور احمد آید چارہ گر کس نمی گیرد از تاریکی بدر ۵۳۳