براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 637
روحانی خزائن جلد 1 ۶۳۵ براہین احمدیہ حصہ چہارم اور پھر فرمایا کہ ہم نے رات اور دن دو نشانیاں بنائی ہیں یعنی انتشار ضلالت جو رات سے مشابہ ہے اور انتشار ہدایت جو دن سے مشابہ ہے ۔ رات جو اپنے کمال کو ۵۳۱ پہنچ جاتی ہے تو دن کے چڑھنے پر دلالت کرتی ہے اور دن جب اپنے کمال کو پہنچ جاتا ہے تو رات کے آنے کی خبر دیتا ہے سو ہم نے رات کا نشان محو کر کے دن کا نشان رہنما بنایا یعنی جب دن چڑھتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس سے پہلے اندھیرا تھا ۔ سو دن کا نشان ایسا روشن ہے کہ رات کی حقیقت بھی اسی سے کھلتی ہے اور رات کا نشان یعنی ضلالت کا زمانہ اس لئے مقرر کیا گیا کہ دن کے نشان یعنی انتشار ہدایت کھل جائے گی کہ فی الحقیقت وہ خواص روحانی جن کا اس جگہ ذکر کیا گیا ہے سورۃ فاتحہ اور قرآن شریف میں پائے جاتے ہیں سوکیا مبارک وہ شخص ہے کہ جو اپنے دل کو کہ جو اپنے دل کو تعصب اور عناد سے خالی ۵۳۱ کر کے اور اسلام کے قبول کرنے پر مستعد ہو کر اس مطلب کے حصول کے لئے بصدق و ارادت توجہ کرے اور کیا بد قسمت وہ آدمی ہے کہ اس قدر واشگاف باتیں سن کر پھر بھی نظر اٹھا کر نہ دیکھے اور دیدہ و دانستہ خدائے تعالیٰ کی لعنت اور غضب کا مورد بن جاوے۔ مرگ نہایت نزدیک ہے اور بازی اجل سر پر ہے۔ اگر جلد تر خدا سے ڈر کر اس عاجز کی باتوں کی طرف نظر نہیں کرو گے اور اپنی تسلی اور تشفی حاصل کرنے کے لئے صدق اور ارادت سے قدم نہیں اٹھاؤ گے تو میں ڈرتا ہوں کہ آپ لوگوں کا ایسا ہی انجام نہ ہو جیسا پنڈت دیانند آریوں کے سرگروہ کا انجام ہوا کیونکہ اس احقر نے ان کو ان کی وفات سے ایک مدت پہلے راہِ راست کی زانکه کذب و فسق و کفرت در سر است و ایں نجاست خواریت زاں بدتر است تو ہلا کی اے شقی سرمدی زانکه از جانِ جہاں سرکش شدی اے در انکار و شکی از شاہِ دیں خادمان و چاکرانش را به ہیں کس ندیده از بزرگانت نشان نیست در دست تو بیش از داستان بقیه حاشیه نمبراا بقیه حاشیه در حاشیه نمبر ۳ ۵۳۱