براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 607
روحانی خزائن جلد ۱ براہین احمدیہ حصہ کا علاج ہے اور اس کی علمی اور عملی تکمیل کے لئے پورا سامان موجود ہے۔۔ L ہر یک قسم کی کچی اور بے راہی سے باز آ کر اور بالکل رو بخدا ہوکر راہ راست کو اختیار کرنا بیوی سخت گھائی ہے جس کو دوسرے لفظوں میں فنا سے تعبیر کیا گیا ہے کیونکہ امور مالوفہ اور معتادہ کو یکلخت چھوڑ دینا اور ۵۰۸ نفسانی خواہشوں کو جو ایک عمر سے عادت ہو چکی ہے یکدفعہ ترک کرنا اور ہر ایک ننگ اور ناموس اور عجب کو تعجب ہوا کہ خداذ والعجائب ہے ہمیشہ عجیب کام ظہور میں لاتا ہے۔ جس کو چاہتا ہے اپنے بندوں میں سے چن لیتا ہے وہ اپنے کاموں سے پوچھا نہیں جاتا کہ ایسا کیوں کیا اور لوگ پوچھے جاتے ہیں اور ہم یہ دن لوگوں میں پھیرتے رہتے ہیں یعنی کبھی کسی کی نوبت آتی ہے اور کبھی کسی کی اور عنایات الهیه نوبت به نوبت امت محمدیہ کے مختلف افراد پر وارد ہوتے رہتے ہیں۔ وقالوا انی لك هذا ۔ وقالوا ان هذا الا اختلاق ۔ اذا نصر الله المؤمن جعل له الحاسدين في الارض فالنار موعدهم۔ قل الله ثم ذرهم في خوضهم يلعبون ۔ اور کہیں گے کہ یہ تجھ کو کہاں سے ۔ اور یہ تو ایک بناوٹ ہے۔ خدائے تعالیٰ جب مومن کی مدد کرتا ہے تو زمین پر کئی اُس کے حاسد بنا دیتا ہے سو جو لوگ حسد پر اصرار کریں اور باز نہ آویں تو جہنم ان کا وعدہ گاہ ہے ۔ کہہ یہ سب کاروبار خدا کی طرف سے ہیں پھر ان کو چھوڑ دے تا اپنے بے جا خوض میں کھیلتے رہیں۔ تلطف بالناس و ترحم عليهم انت فيهم بمنزلة موسى واصبر على ما يقولون - ۵۰۸ لوگوں کے ساتھ رفق اور نرمی سے پیش آ اور ان پر رحم کر ۔ تو ان میں بمنزلہ موسیٰ کے ہے۔ اور ان کی باتوں پر صبر کر ۔ حضرت موسیٰ بُردباری اور علم میں بنی اسرائیل کے تمام نبیوں سے سبقت لے گئے تھے۔ اور بنی اسرائیل میں نہ مسیح اور نہ کوئی دوسرا نبی ایسا نہیں ہوا جو حضرت موسیٰ کے مرتبہ عالیہ تک پہنچ سکے۔ توریت سے ثابت ہے جو حضرت موسیٰ رفق اور علم اور اخلاق فاضلہ میں سب اسرائیلی نبیوں سے بہتر اور فائق تر تھے جیسا کہ گفتی باب دوازدہم آیت سوم توریت میں لکھا ہے کہ موسیٰ سارے لوگوں سے جو روئے زمین پر تھے زیادہ بردبار تھا