براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 606
براہین احمدیہ حصہ چہارم ۶۰۴ روحانی خزائن جلد ۱ کا رہنما ہے اور وہ مبارک کتاب لایا ہے جس میں شخص پیرو کی امراض روحانی دین کا لب لباب ہے سورۃ فاتحہ میں تمام تر خوبی و رعایت ایجاز و خوش اسلوبی بیان کئے گئے ہیں چنانچہ پہلی ترقی کہ جو قربت کے میدانوں میں چلنے کے لئے اول قدم ہے اس آیت میں تعلیم کی گئی ہے جو فرمایا ہے اھدنا الصراط المستقیم - کیونکہ حاشیه نمبر ۳ ہے ایسے نہیں تھے جو بجز آیات صریحہ و براہین قطعیہ اپنے کفر سے باز آ جاتے بلکہ وہ اس مکر میں لگے ہوئے تھے کہ تا کسی طرح باغ اسلام کو صفحہ زمین سے نیست و نابود کر دیں۔ اگر خدا ایسانہ کرتا تو دنیا میں اندھیر پڑ جاتا ۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے جو دنیا کو ان آیات بینات کی نہایت ضرورت تھی اور دنیا کے لوگ جو اپنے کفر اور خبث کی بیماری سے مجزوم کی طرح گداز ہو گئے ہیں وہ بجز اس آسمانی دوا کے جو حقیقت میں حق کے طالبوں کے لئے آب حیات تھی تندرستی حاصل نہیں کر سکتے تھے۔ واذا قيل لهم لا تفسدوا فى الارض قالوا انما نحن مصلحون۔ الا انهم هم المفسدون ۔ قل اعوذ برب الفلق من شر ما خلق ومن شر غاسق اذا وقب۔ اور جب ان کو کہا جائے کہ تم زمین میں فساد مت کرو اور کفر اور شرک اور بد عقیدگی کو مت پھیلاؤ تو وہ کہتے ہیں کہ ہمارا ہی راستہ ٹھیک ہے اور ہم مفسد نہیں ہیں بلکہ مصلح اور ریفارمر ہیں۔ خبردار رہو ۔ یہی لوگ مفسد ہیں جو زمین پر فساد کر رہے ہیں ۔ کہہ میں شریر مخلوقات کی شرارتوں سے خدا کے ساتھ پناہ مانگتا ہوں اور اندھیری رات سے خدا کی پناہ میں آتا ہوں یعنی یہ زمانہ اپنے فساد عظیم کے رو سے اندھیری رات کی مانند ہے سو الہی قوتیں اور طاقتیں اس زمانہ کی تنویر کے لئے درکار ہیں۔ انسانی طاقتوں سے یہ کام انجام ہونا محال ہے۔ انی ناصرک۔ انی حافظک۔ انی جاعلک للناس اماما ۔ اكان للناس عجبا۔ قل هو الله عجيب۔ يجتبى من يشاء من عباده۔ لا يُسئل عما يفعل وهم يُسئلون وتلك الايام نداولها بين الناس ۔ میں تیری مدد کروں گا۔ میں تیری حفاظت کروں گا۔ میں تجھے لوگوں کے لئے پیشرو بناؤں گا۔ کیا لوگوں ۵۰۷ ۵۰۷