براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 598
۵۰۲ روحانی خزائن جلد 1 ۵۹۶ براہین احمدیہ حصہ چہارم بقیه حاشیه نمبر ا ا بقیه حاشیه در حاشیه نمبر ۳ تو به بداہت ثابت ہے کہ اگرچہ وہ امر بظاہر صورت کسی تابع سے ظہور میں پر اتم اور اکمل ہے ۔ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى عَمَّا يَصِفُون ۔ بلکہ اس تیسرے قسم کی ترقی سے ہمارا مطلب یہ ہے کہ سالک خدا کی محبت میں ایسا فانی اور مستہلک ہو جاتا ہے اور اس قدر ذات بے چون و بے چگون اپنی تمام صفات احقر توابع سے دشمنوں کے روبرو ظاہر ہوتے ہیں اور انہیں دشمنوں کی شہادتوں سے حقیقت اسلام کا آفتاب تمام عالم کے لئے طلوع کرتا جاتا ہے۔ ماسوا اس کے یہ زمانہ اشاعت دین کے لئے ایسا مددگار ہے کہ جو امر پہلے زمانوں میں سو سال تک دنیا میں شائع نہیں ہو سکتا تھا۔ اب اس زمانہ میں وہ صرف ایک سال میں تمام ملکوں میں پھیل سکتا ہے۔ اس لئے اسلامی ہدایت اور ربانی نشانوں کا نقارہ بجانے کے لئے اس قدر اس زمانہ میں طاقت وقوت پائی جاتی ہے جو کسی زمانہ میں اس کی نظیر نہیں پائی جاتی ۔ صد ہا وسائل جیسے ریل و تار و اخبار وغیرہ اسی خدمت کے لئے ہر وقت طیار ہیں کہ تا ایک ملک کے واقعات دوسرے ملک میں پہنچاویں۔ سو بلا شبہ معقولی اور روحانی طور پر دین اسلام کے دلائل حقیقت کا تمام دنیا میں پھیلنا ایسے ہی زمانہ پر موقوف تھا اور یہی با سامان زمانہ اس مہمان عزیز کی خدمت کرنے کے لئے من كل الوجوہ اسباب مہیا رکھتا ہے۔ پس خداوند تعالیٰ نے اس احقر عباد کو اس زمانہ میں پیدا کر کے اور صدہا نشان آسمانی اور خوارق غیبی اور معارف و حقائق مرحمت فرما کر اور صدہا دلائل عقلیہ قطعیہ پر علم بخش کر یہ ارادہ فرمایا ہے کہ تا تعلیمات حقہ قرآنی کو ہر قوم اور ہر ملک میں شائع اور رائج فرمادے اور اپنی حجت ان پر پوری کرے۔ اور اسی ارادہ کی وجہ سے خداوند کریم نے اس عاجز کو یہ توفیق دی کہ اتماماً للحجة دس ہزار روپیہ کا اشتہار کتاب کے ساتھ شامل کیا گیا اور دشمنوں اور مخالفوں کی شہادت سے آسمانی نشانی پیش کی گئی اور اُن کے معارضہ اور مقابلہ کے لئے تمام مخالفین کو مخاطب کیا گیا تا کوئی دقیقہ اتمام حجت کا باقی نہ رہے اور