براہین احمدیہ حصہ چہارم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 597 of 849

براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 597

روحانی خزائن جلد ۱ ۵۹۵ براہین احمدیہ حصہ چہارم سے وابستہ ہے اور بدون متابعت کے وہ ظہور میں آ ہی نہیں سکتا۔ ۵۰۱ ہستی فانی اور جس کی روح میں صریح مخلوقیت کے نقصان پائے جاتے ہیں ۔ وہ با وجود اپنی تمام آلائشوں اور کمزوریوں اور ناپاکیوں اور عیبوں اور نقصانوں کے اس ذات ۵۰۱ جلیل الصفات سے برابر ہو سکتا ہے جو اپنی خوبیوں اور پاک صفتوں میں ازلی ابدی طور بلا شبہ اب وہ وقت پہنچ گیا ہے کہ جس میں تمام دنیا ایک ہی ملک کا حکم پیدا کرتی جاتی ہے۔ اور باعث شائع اور رائج ہونے کئی زبانوں کے تفہیم تفہیم کے بہت سے ذریعے نکل آئے ہیں اور غیریت اور اجنبیت کی مشکلات سے بہت سی سبکدوشی ہوگئی ہے۔ اور بوجہ میل ملاپ دائگی اور اختلاط شباروزی کی وحشت اور نفرت بھی کہ جو بالطبع ایک قوم کو دوسری قوم سے تھی بہت ہی گھٹ گئی ہے چنانچہ اب ہندو بھی جن کی دنیا ہمیشہ ہمالہ پہاڑ کے اندر ہی اندر تھی اور جن کو سمندر کا سفر کرنا مذہب سے خارج کر دیتا تھا لنڈن اور امریکہ تک سیر کر آتے ہیں۔ خلاصہ کلام یہ کہ اس زمانہ میں ہر یک ذریعہ اشاعت دین کا اپنی وسعت تامہ کو پہنچ گیا ہے اور گودنیا پر بہت سی ظلمت اور تاریکی چھا رہی ہے مگر پھر بھی ضلالت کا دورہ اختتام پر پہنچا ہوا معلوم ہوتا ہے اور گمراہی کا کمال روبز وال نظر آتا ہے کچھ خدا کی طرف سے ہی طبائع سلیمہ صراط مستقیم کی تلاش میں لگ گئے ہیں اور نیک اور پاکیزہ فطرتیں طریقہ حقہ کے مناسب حال ہوتی جاتی ہیں اور توحید کے قدرتی جوش نے مستعد دلوں کو وحدانیت کے چشمہ صافی کی طرف مائل کر دیا ہے اور مخلوق پرستی کی عمارت کا بودہ ہونا دانشمند لوگوں پر کھلتا جاتا ہے اور مصنوعی خدا پھر دوبارہ عقلمندوں کی نظر میں انسانیت کا جامہ پہنتے جاتے ہیں اور با ایں ہمہ آسمانی مدددین حق کی تائید کے لئے ایسے جوش میں ہے کہ وہ نشان اور خوارق جن کی سماعت سے عاجز اور ناقص بندے خدا بنائے گئے تھے اب وہ حضرت سید الرسل کے ادنی خادموں اور چاکروں سے مشہور اور محسوس ہورہے ہیں اور جو پہلے زمانہ کے بعض نبی صرف ۵۰۱ اپنے حواریوں کو چھپ چھپ کر کچھ نشان دکھلاتے تھے۔ اب وہ نشان حضرت سید الرسل کے