براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 596
روحانی خزائن جلد ۱ ۵۹۴ براہین احمدیہ حصہ چہارم بقیه حاشیه نمبر | ۵۰۰ ظاہر ہے کیونکہ جب کسی امر کا ظاہر ہونا کسی شخص اور کسی خاص کتاب کی متابعت ۵۰۰) ان سب بلاؤں میں مبتلا ہے ۔ کیا انسان جس کی روحانی ترقیات کے لئے اس قدر حالات منتظرہ ہیں جن کا کوئی کنارہ نظر نہیں آتا ۔ وہ اُس ذات صاحب کمالِ تا تم سے مشابہ یا اس کا عین ہو سکتا ہے جس کے لئے کوئی حالت منتظرہ باقی نہیں ؟ کیا جس کی بھی ایک مشابہت ہے اور وہ یوں کہ مسیح ایک کامل اور عظیم الشان نبی یعنی موسیٰ کا تابع اور خادم دین تھا اور اس کی انجیل توریت کی فرع ہے اور یہ عاجز بھی اس جلیل الشان نبی کے احقر خادمین میں سے ہے کہ جو سید الرسل اور سب رسولوں کا سرتاج ہے۔ اگر وہ حامد ہیں تو وہ احمد ہے۔ اور اگر وہ محمود ہیں تو وہ محمد ہے صلی اللہ علیہ وسلم ۔ سو چونکہ اس عاجز کو حضرت مسیح سے مشابہت تامہ ہے اس لئے خداوند کریم نے مسیح کی پیشگوئی میں ابتدا سے اس عاجز کو بھی شریک کر رکھا ہے یعنی حضرت مسیح پیشگوئی متذکرہ بالا کا ظاہری اور جسمانی طور پر مصداق ہے اور یہ عاجز روحانی اور معقولی طور پر اُس کا مل اور مورد ہے یعنی روحانی طور پر دین اسلام کا غلبہ جو حجج قاطعہ اور براہین ساطعہ پر موقوف ہے اس عاجز کے ذریعہ سے مقدر ہے ۔ گو اس کی زندگی میں یا بعد وفات ہو اور اگر چه دین اسلام اپنے دلائل حقہ کے رو سے قدیم سے غالب چلا آیا ہے اور ابتدا سے اس کے مخالف رسوا اور ذلیل ہوتے چلے آئے ہیں لیکن اس غلبہ کا مختلف فرقوں اور قوموں پر ظاہر ہونا ایک ایسے زمانہ کے آنے پر موقوف تھا کہ جو باعث کھل جانے راہوں کے تمام دنیا کو مالک متحدہ کی طرح بنا تا ہو اور ایک ہی قوم کے حکم میں داخل کرتا ہو اور تمام اسباب اشاعت تعلیم اور تمام وسائل اشاعت دین کے تمام تر سہولت و آسانی پیش کرتا ہو اور اندرونی اور بیرونی طور پر تعلیم حقانی کے لئے نہایت مناسب اور موزوں ہو سو اب وہی زمانہ ہے کیونکہ بہاعث کھل جانے راستوں اور مطلع ہونے ایک قوم کے دوسری قوم سے اور ایک ملک کے دوسرے ملک سے سامان تبلیغ کا بوجہ احسن میسر آ گیا ہے اور بوجہ انتظام ڈاک و ریل و تار و جہاز و وسائل متفرقه اخبار وغیرہ کے دینی تالیفات کی اشاعت کے لئے بہت سی آسانیاں ہو گئی ہیں۔ غرض ۵۰۰