براہین احمدیہ حصہ چہارم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 592 of 849

براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 592

روحانی خزائن جلد 1 ۵۹۰ چهارم اور اُن پر یقین کا دروازہ ایسا کھل گیا تھا کہ ان کے حق میں خدا نے فرمایا يَعْرِفُونَهُ كَمَا يَعْرِفُونَ أَبْنَاءهُمْ لا یعنی اس نبی کو ایسا شناخت کرتے ہیں کہ جیسا اپنے بیٹوں کو شناخت کرتے ہیں اور حقیقت میں یہ دروازہ یقین اور معرفت کا کچھ ان کے لئے ہی نہیں کھلا بلکہ اس زمانہ میں بھی سب کے لئے کھلا ہے کیونکہ فتااتم کے آئینہ کے ذریعہ سے جس نے سالک میں اور اس کی نفسانی خواہشوں ۴۹۷ میں غایت درجہ کا بعد ڈال دیا ہے انعکاس ربّانی ذات اور صفات کا نہایت صفائی سے دکھائی دے ۔ اس تقریر میں کوئی ایسا لفظ نہیں ہے جس میں وجو د یوں یا بقیه حاشیه کی خلعت خاص عطا کی جاتی ہے اور قرب کے اعلیٰ مقام تک صعود کرتا ہے اور پھر خلقت کی طرف اس کو لایا جاتا ہے۔ پس اس کا وہ صعود اور نزول دو قوس کی صورت میں ظاہر ہو جاتا ہے اور نفس جامع التعلقين انسان کامل کا ان دونوں قوسوں میں قاب قوسین کی طرح ہوتا ہے اور قاب عرب کے محاورہ میں کمان کے چلہ پر اطلاق پاتا ہے ۔ پس آیت کے بطور تحت اللفظ یہ معنے ہوئے کہ نزدیک ہوا یعنی خدا سے، پھر اتر یعنی خلقت پر پس اپنے اس صعود اور نزول کی وجہ سے دو قوسوں کے لئے ایک ہی وتر ہو گیا ۔ اور چونکہ اس کا رُو خلق ہونا چشمہ صافی متخلق با خلاق اللہ سے ہے اس لئے اس کی توجہ مخلوق توجہ بخالق کے عین ہے یا یوں سمجھو کہ چونکہ مالک حقیقی اپنی غایت شفقت علی العباد کی وجہ سے اس قدر بندوں کی طرف رجوع رکھتا ہے کہ گویا وہ بندوں کے پاس ہی خیمہ زن ہے ۔ پس جبکہ سالک سیرالی اللہ کرتا کرتا اپنی کمال سیر کو پہنچ گیا تو جہاں خدا تھا و ہیں اس کو لوٹ کر آنا پڑا۔ پس اس وجہ سے کمال دنتو یعنی قرب تام اس کی تدلی یعنی ہبوط کا موجب ہو گیا۔ یـحـيـى الـديـن و يقيم الشريعة - | زندہ کرے گا دین کو اور قائم کرے گا شریعت کو ۔ یا ادم اسکن انت وزوجك الجنة۔ یا مریم اسکن انت و زوجك الجنة يا احمد اسکن انت و زوجک البقرة: ۱۴۷