براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 591
روحانی خزائن جلد ۱ ۵۸۹ براہین احمدیہ حصہ چہارم بقیه حاشیه نمبر ا ا بلاشبہ ان پر یہ بات بکمال درجہ ثابت ہو چکی تھی کہ جو کچھ آنحضرت کے مونہہ سے نکلتا ہے وہ کسی اُمّی اور نا خواندہ کا کام نہیں اور نہ دس ہمیں آدمیوں کا کام ہے تب ہی تو وہ اپنی جہالت سے آعَانَهُ عَلَيْهِ قَوْمُ أَخَرُونَ ے کہتے تھے اور جو اُن میں سے دانا (۴۹۶) اور واقعی اہل علم تھے وہ بخوبی معلوم کر چکے تھے کہ قرآن انسانی طاقتوں سے باہر ہے کہ سالک اس قدر خدا اور اس کے ارادوں اور خواہشوں سے اتحاد اور محبت اور یک جہتی (۴۹۶ پیدا کر لے کہ اس کا تمام اپنا عین واثر جاتا رہے۔ اور ذات اور صفات الہیہ بلا شائبہ ظلمت اور بلا تو ہم حالیت و محلیت اس کے وجود آئینہ صفت میں منعکس ہو جائیں ۔ اور واقعہ ہے جو دونوں سے تعلق کامل رکھتا ہے۔ اب خلاصہ کلام یہ کہ وصول کامل کے لئے دنو اور تدتی دونوں لازم ہیں دنو اس قرب تام کا نام ہے کہ جب کامل تزکیہ کے ذریعہ سے انسان کامل سیر الی اللہ سے سیر فی اللہ کے ساتھ متفق ہو جائے اور اپنی ہستی نا چیز سے بالکل ناپدید ہوکر اور غرق دریائے نیپچون و بچکون ہو کر ایک جدید ہستی پیدا کرے جس میں بیگانگی اور دوئی اور جہل اور نا دانی نہیں ہے اور صبغتہ اللہ کے پاک رنگ سے کامل رنگینی میسر ہے اور ترقی انسان کی اس حالت کا نام ہے کہ جب وہ تخلق باخلاق اللہ کے بعد رہائی شفقتوں اور رحمتوں سے رنگین ہو کر خدا کے بندوں کی طرف اصلاح اور فائدہ رسانی کے لئے رجوع کرے۔ پس جاننا چاہئے کہ اس جگہ ایک ہی دل میں ایک ہی حالت اور نیت کے ساتھ دوستم کا رجوع پایا گیا۔ ایک خدائے تعالیٰ کی طرف جو وجو د قدیم ہے اور ایک اس کے بندوں کی طرف جو وجود محدث ہے۔ اور دونوں قسم کا وجود یعنی قدیم اور حادث ایک دائرہ کی طرح ہے جس کی طرف اعلی وجوب اور طرف اسفل امکان ہے۔ اب اس دائرہ کے درمیان میں انسان کامل بوجہ دنو اور تدلی کی دونوں طرف سے اتصال محکم کر کے یوں مثالی طور پر صورت پیدا کر لیتا ہے۔ جیسے ایک وتر دائرہ کے (۴۹۶ بقيه دو قوسوں میں ہوتا ہے یعنی حق اور خلق میں واسطہ ٹھہر جاتا ہے پہلے اس کو دنسو اور قرب الہی الفرقان: ۵