براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 582
روحانی خزائن جلد 1 ۵۸۰ براہین احمدیہ حصہ چہارم قبول کر لیتے جو بباعث تعلیم توحید کے تمام مشرکین کو بُرا معلوم ہوتا تھا اور اُس کے قبول ۳۸۸ کرنے والے ہر وقت چاروں طرف سے معرض ہلاکت اور بلا میں تھے پس جس چیز نے ان کے دلوں کو اسلام کی طرف پھیر اوہ یہی بات تھی جو انہوں نے آنحضرت کو محض امتی اور سراپا مؤيد من اللہ پایا اور قرآن شریف کو بشری طاقتوں سے بالاتر دیکھا اور پہلی کتابوں میں اس آخری نبی کے آنے کے لئے خود بشارتیں پڑھتے تھے سو خدا نے ان کے سینوں کو ایمان لانے کے لئے کھول دیا۔ اور ایسے ایماندار نکلے جو خدا کی راہ میں اپنے خونوں کو بہایا اور جو لوگ عیسائیوں اور یہودیوں اور عربوں میں سے نہایت درجہ کے جاہل اور شریر اور عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ لکھا ۔ کیونکہ امر مجازات مَالِكِ يَوْمِ الدین کے متعلق ہے ۔ سوا لیسا فقرہ جس میں طلب انعام اور عذاب سے بچنے کی درخواست ۴۸۸ ۴۸۸ بقیه حاشیه نمب مبراا بقیه حاشیه در حاشیه نمبر ۳ ہے اسی کے نیچے رکھنا موزوں ہے ۔ چوتھا لطیفہ یہ ہے کہ سورۃ فاتحہ مجمل طور پر تمام مقاصد قرآن شریف پر مشتمل ہے گویا یہ سورۃ مقاصد قرآنیہ کا ایک ایجاز لطیف ہے۔ اسی کی طرف اللہ تعالیٰ نے اشارہ فرمایا ہے وَلَقَدْ أَتَيْنكَ سَبْعًا مِنَ الْمَثَانِي وَالْقُرْآنَ الْعَظِيمَ لا یعنی ہم نے تجھے اے رسول سات آیتیں سورۃ فاتحہ کی عطا کی ہیں جو مجمل طور پر تمام مقاصد قرآنیہ پر مشتمل ہیں اور ان کے مقابلہ پر قرآن عظیم بھی عطا فرمایا ہے جو مفصل طور پر مقاصد دینیہ کو ظاہر کرتا ہے اور اسی جہت سے اس سورۃ کا نام ساتھ ہیں جیسے وہ میرے ساتھ ہیں ۔ ھو کا ضمیر واحد بتاويل مَا فِي السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ ہے اور ان کلمات کا حاصل مطلب تلطفات اور برکاتِ الہیہ ہیں جو حضرت خیر الرسل کی متابعت کی برکت سے ہر ایک کامل مومن کے شامل حال ہو جاتی ہیں اور حقیقی طور پر مصداق ان سب عنایات کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور دوسرے سب طفیلی ہیں ۔ اور اس بات کو ہر جگہ یاد رکھنا چاہئے کہ ہر یک مدح و ثنا جو کسی مومن کے ا الحجر : ٨٨