براہین احمدیہ حصہ چہارم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 577 of 849

براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 577

روحانی خزائن جلد 1 ۵۷۵ براہین احمدیہ حصہ چہارم قُلْ لَّوْ شَاءَ اللهُ مَا تَلَوْتُ اور اپنے خداوند کی نافرمانی سے ڈرتا ہوں اگر خدا چاہتا تو (۲۸۳) عَلَيْكُمْ وَلَا أَدْرَتُكُمْ بِہ میں تم کو یہ کلام نہ سنا تا اور خدا تم کو اس پر مطلع بھی نہ کرتا فَقَدْ لَبِثْتُ فِيكُمْ عُمُرًا مِنْ قَبْلِهِ پہلے اس سے اتنی عمر یعنی چالیس برس تک تم میں ہی رہتا أَفَلَا تَعْقِلُونَ فَمَنْ أَظْلَمُ رہا ہوں پھر کیا تم کو عقل نہیں یعنی کیا تم کو بخوبی معلوم نہیں مِمَّنِ افْتَرَى عَلَى اللهِ کہ افترا کرنا میرا کام نہیں اور جھوٹ بولنا میری عادت میں كَذِبًا اَوْ كَذَّبَ بِايَتِهِ إِنَّهُ نہیں اور پھر آگے فرمایا کہ اس شخص سے زیادہ تر اور کون لَا يُفْلِحُ الْمُجْرِمُونَ ب سورة ظالم ہوگا جو خدا پر افترا باندھے یا خدا کے کلام کو کہے کہ یہ يونس الجزو نمبر ۱۱ ۔ انسان کا افترا ہے بلاشبہ مجرم نجات نہیں پائیں گے۔ ممکن نہیں کہ جب تک وہ دونوں محرک کسی کے خیال میں نہ ہوں تب تک اس کی دعا میں جوش پیدا ہو سکے ۔ سو طبعی راستہ دعا مانگنے کا وہی ہے جو سورۃ فاتحہ میں ذ میں ذکر ہو چکا ہے۔ پس سورہ ممدوحہ کے لطائف میں سے یہ ایک نہایت عمدہ لطیفہ ہے کہ دعا کو معہ محرکات اس کے کے بیان کیا ہے فتدبر ۔ پھر ایک دوسر الطیفہ اس سورۃ میں یہ ہے کہ ہدایت کے قبول کرنے کے لئے پورے پورے اسباب راا بقیه حاشیه نمبر ا بقیه حاشیه در حاشیه در حاشیه نمبر الله حمد ترغیب بیان فرمائے ہیں کیونکہ ترغیب کال جو معقول طور پر دی جائے ایک زبردست کشش ہے اور حصر عقلی کے رو سے ترغیب کامل اس ترغیب کا نام ہے جس میں تین تجزیں موجود ہوں ۔ ایک یہ کہ جس شے کی طرف ترغیب دینا منظور ہو اس کی ذاتی خوبی بیان کی جائے سو اس خبر کو اس آیت میں بیان فرمایا ہے۔ اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ یعنی ہم کو وہ راستہ بتلا جو اپنی ذات میں صفت استقامت گیا۔ اس میں دو سطریں تھیں ۔ اول سطر میں یہ انگریزی فقرہ لکھا تھا۔ لیں آئی ایم پی اور دوسری سطر جو خط فارق ڈال کر نیچے لکھی ہوئی تھی وہ اسی پہلی سطر کا ترجمہ تھا یعنی یہ لکھا تھا کہ ہاں میں خوش ہوں۔ ایک دفعہ کچھ حزن اور غم کے دن آنے والے تھے کہ ایک کاغذ پر بہ نظر کشفی یہ فقرہ انگریزی میں لکھا ہوا دکھایا گیا ۔ لائف آف پین یعنی زندگی دکھ کی ۔ ایک دفعہ بعض مخالفوں کے بارہ میں جنہوں نے یونس : ۱۶ تا ۱۸