براہین احمدیہ حصہ چہارم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 576 of 849

براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 576

روحانی خزائن جلد 1 ۵۷۴ براہین احمدیہ حصہ چہارم ۴۸﴾ قَالَ الَّذِينَ لَا يَرْجُونَ لِقَاءَنَا وہ لوگ جو ہماری ملاقات سے ناامید ہیں یعنی ہماری ۴۸۳ انتِ بِقُرْآنٍ غَيْرِ هَذَا أَوْ طرف سے بکلی علاقہ توڑ چکے ہیں وہ کہتے ہیں کہ اس بَدِلْهُ قُلْ مَا يَكُونُ لِي اَنْ قرآن کے برخلاف کوئی اور قرآن لا جس کی تعلیم اس کی أُبَدِّ لَهُ مِنْ تِلْقَائِ نَفْسِی اِن تعلیم سے مغایر اور منافی ہو یا اسی میں تبدیل کر ان کو اتَّبِعُ إِلَّا مَا يُوحَى إِلَى جواب دے کہ مجھے یہ قدرت نہیں اور نہ روا ہے کہ میں خدا إِنِّي أَخَافُ إِنْ عَصَيْتُ کے کلام میں اپنی طرف سے کچھ تبدیل کروں۔ میں تو رَبِّي عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ صرف اُس وحی کا تابع ہوں جو میرے پر نازل ہوتی ہے حقیقی کی شہود سے اپنی اور دوسری مخلوق چیزوں کی ہستی کا لعدم معلوم ہوتی ہے اس حالت کا نام خدا نے صراط مستقیم رکھا ہے جس کی طلب کے لئے بندہ کو تعلیم فرمایا اور کہا اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ یعنی وہ راستہ فنا اور توحید اور محبت الہی کا جو آیات مذکورہ بالا سے مفہوم ہو رہا ہے وہ ہمیں عطا فرما اور اپنے غیر سے بگلی منقطع کر ۔ خلاصہ یہ کہ خدائے تعالیٰ نے دعا میں جوش پیدا کرنے کے لئے وہ اسباب حقہ انسان کو عطا فرمائے کہ جو اس قدر دلی جوش پیدا کرتے ہیں کہ دعا کرنے والے کو خودی کے عالم سے بے خودی اور نیستی کے عالم میں پہنچا دیتے ہیں ۔ اس جگہ یہ بھی یا درکھنا چاہئے کہ یہ بات ہرگز نہیں کہ سورۃ فاتحہ دعا کے کئی طریقوں میں سے ہدایت مانگنے کا ایک طریقہ ہے بلکہ جیسا کہ دلائل مذکورہ بالا سے ثابت ہو چکا ہے در حقیقت صرف یہی ایک طریقہ ہے جس پر جوش دل سے دعا کا صادر ہونا موقوف ہے اور جس پر طبیعت انسانی بمقتضا اپنے فطرتی تقاضا کے چلنا چاہتی ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ جیسے خدا نے دوسرے امور میں قواعد مقررہ ٹھہرا رکھے ہیں ایسا ہی دعا کے لئے بھی ایک قاعدہ خاص ہے اور وہ قاعدہ وہی محرک ہیں جو سورۃ فاتحہ میں لکھے گئے ہیں اور آریہ کو بتلایا گیا جس سے یہ سمجھا گیا تھا کہ کوئی شخص عیسائی یا عیسائیوں کی طرز پر دین اسلام کی نسبت کچھ اعتراض کچھ کر سجے گا چنانچہ اس رز ایک آریکوڈک آنے کے وقت ڈاک خانہ میں بھیجاگیا تو وہ چند بقيه حاشیه نمبر ا ا چھپے ہوئے ورق لایا جس میں عیسائیوں کی طرز پر ایک صاحب خام خیال نے اعتراضات لکھے تھے۔ ایک ۴۸۳ دفعہ کسی امر میں جو دریافت طلب تھا خواب میں ایک درم نقرہ جو بشکل با دامی تھا اس عاجز کے ہاتھ میں دیا