براہین احمدیہ حصہ چہارم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 564 of 849

براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 564

ا ما روحانی خزائن جلد ۱ ۵۶۲ براہین احمدیہ حصہ چہارم لیکن اس جگہ عجیب بر عجیب اور بات ہے یعنے یہ کہ وہ علوم اور معارف ایک ایسے امی کو عطا کی گئی کہ جو لکھنے پڑھنے سے نا آشنا محض تھا جس نے عمر بھر کسی مکتب کی شکل نہیں دیکھی تھی اور نہ کسی کتاب کا کوئی حرف پڑھا تھا اور نہ کسی اہل علم یا حکیم کی صحبت میسر آئی تھی بلکہ تمام عمر جنگلیوں اور وحشیوں میں سکونت رہی اُنہیں میں پرورش پائی اور اُنہیں میں سے پیدا ہوئے اور انہیں کے ساتھ اختلاط رہا۔ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اُمّی اور ان پڑھ ہونا ایک ایسا بدیہی امر ہے کہ حاشیه نمبر۔ L حجابوں سے نکل کر سیدھا خدائے تعالیٰ کی طرف اپنے روح کا مونہ پھیر کر اس کے آستانہ پر گر پڑتا ہے اسی پر فیضان رحمت خاصہ ایزدی کا ہوتا ہے اور جو شخص اس طریق کے برخلاف کوئی دوسرا طریق اختیار کر لیتا ہے تو بالضرور جو ا مر رحمت کے برخلاف ہے یعنی غضب الہی اُس پر وارد ہو جاتا ہے اور غضب کی اصل حقیقت یہی ہے کہ جب ایک شخص اس طریق مستقیم کو چھوڑ دیتا ہے کہ جو قانون الہی میں افاضیہ رحمت الہی کا طریق ہے تو فیضان رحمت سے محروم رہ جاتا ہے۔ اسی محرومی کی حالت کا نام غضب الہی ہے اور چونکہ انسان کی زندگی اور آرام اور راحت خدا کے فیض سے ہی ہے۔ اس آزا انجملہ ایک یہ ہے کہ مولوی ابو عبداللہ غلام علی صاحب قصوری جن کا ذکر خیر حاشیہ در حاشیہ نمبر ۲ میں درج ہے الہام اولیاء اللہ کی عظمت شان میں کچھ شک رکھتے تھے اور یہ شک ان کی بالمواجہ تقریر سے نہیں بلکہ ان کے رسالہ کی بعض عبارتوں سے مترشح ہوتا تھا سو کچھ عرصہ ہوا کہ ان کے شاگردوں میں سے ایک صاحب نور احمد نامی جو حافظ اور حاجی بھی ہیں بلکہ شاید کچھ عربی دان بھی ہیں اور واعظ قرآن ہیں اور خاص امرتسر میں رہتے ہیں اتفاقاً اپنی درویشانہ حالت میں سیر کرتے کرتے یہاں بھی آگئے ان کا خیال الہام کے انکار میں مولوی صاحب کے انکار سے کچھ بڑھ کر معلوم ہوتا تھا اور برہمو سماج والوں کی طرح صرف انسانی خیالات کا نام الہام رکھتے تھے چونکہ وہ ہمارے ہی یہاں ٹھہرے اور اس عاجز پر انہوں نے خود آپ ہی یہ غلط رائے جو الہام کے بارہ میں ان کے دل میں تھی مدعیانہ طور پر ظاہر بھی کر دی اس لئے دل میں بہت رنج گزرا ہر چند معقولی