براہین احمدیہ حصہ چہارم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 562 of 849

براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 562

روحانی خزائن جلد 1 ۵۶۰ براہین احمدیہ حصہ چہارم ۴۶۹ تائیدات کا ایسا بزرگ چمکا را نظر آتا ہو جو بدیہی طور پر اس کی تو جہات خاصہ پر دلالت کرتا ہو ، حاشیه نمبر ا ا اور نیز وہ ایک ایسی نصرت کی خبر پر مشتمل ہوں جس میں اپنی فتح اور مخالف کی شکست اور اپنی عزت اور مخالف کی ذلت اور اپنا اقبال اور مخالف کا زوال به تفصیل تمام ظاہر کیا گیا ہو اور ہم اپنے موقعہ پر بیان کریں گے اور کچھ بیان بھی کر چکے ہیں کہ یہ اعلی درجہ کی پیشین گوئیاں صرف قرآن شریف سے مخصوص ہیں کہ جن کے پڑھنے سے جلال الہی کا ایک عالم نظر آتا ہے۔ ۳۶۹ اس صداقت سے بالکل اطلاع نہیں ہے جس کے رو سے خدائے تعالیٰ سرکش اور غضب ناک بندوں کے ساتھ غضبناک کا معاملہ کرتا ہے۔ چنانچہ برہمو صاحبوں میں سے ایک صاحب نے اس بارہ میں انہیں دنوں میں ایک رسالہ بھی لکھا ہے جس میں صاحب موصوف خدا کی کتابوں پر یہ اعتراض کرتے ہیں کہ ان میں غضب کی صفت خدائے تعالیٰ کی طرف کیونکر منسوب کی گئی ہے کیا خدا ہماری کمزوریوں پر چڑتا ہے۔ اب ظاہر ہے کہ اگر صاحب راقم کو اس صداقت کی کچھ بھی خبر ہوتی تو کیوں وہ ناحق اپنے اوقات ضائع کر کے ایک ایسا رسالہ چھپواتے جس سے ان کی کم فہی ہر یک پر کھل گئی آئے گا ۔ خدا کی مدد نزدیک ہے اور جیسے جب جننے کے لئے اونٹنی دُم اٹھاتی ہے تب اس کا بچہ جنا نزدیک ہوتا ہے ایسا ہی مدد الہی بھی قریب ہے اور پھر انگریزی فقرہ میں یہ فرمایا کہ دس دن کے بعد جب روپیہ آئے گا تب تم امرتسر بھی جاؤ گے۔ تو جیسا اس پیشگوئی میں فرمایا تھا ایسا ہی ہندوؤں یعنی آریوں مذکورہ بالا کے روبرو وقوع میں آیا یعنی حسب منشاء پیشگوئی دس دن تک ایک خرمہرہ نہ آیا اور دس دن کے بعد یعنی گیارھویں روز محمد افضل خان صاحب سپرنٹنڈنٹ بند و بست راولپنڈی نے ایک سو دس روپیہ بھیجے اور بیست روپیہ ایک اور جگہ سے آئے اور پھر برابر روپیہ آنے کا سلسلہ ایسا جاری ہو گیا جس کی امید نہ تھی ۔ اور اسی روز کہ جب دس دن کے گزرنے کے بعد محمد افضل خان صاحب وغیرہ کا روپیہ آیا امر تسر بھی جانا پڑا۔ کیونکہ عدالت خفیفہ امرتسر سے ایک شہادت کے ادا کرنے کے لئے اس عاجز کے نام اسی روز ایک سمن ۲۷۰ بقیه حاشیه در حاشیه نمبر ۳