براہین احمدیہ حصہ چہارم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 553 of 849

براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 553

روحانی خزائن جلد ۱ ۵۵۱ براہین احمدیہ حصہ چہارم اور ہر زمانہ میں دھوکا کھانے کو طیار ہیں ۔ اور کیونکر دھوکا نہ کھا وہیں خواص اشیاء کے ۴۶۲ ایسے ہی حیرت افزا ہیں اور بے خبری کی حالت میں موجب زیادت حیرت اس حالت کا نام غضب الہی ہے ۔ اسی کی طرف خدائے تعالیٰ نے اشارہ فرما کر کہا ۔ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ ۔ تیسری قسم کے وہ لوگ ہیں کہ جو خدا سے لا پروا اور بہتے ہیں (۴۴۶۲ اور سعی اور کوشش سے اس کو طلب نہیں کرتے ۔ خدا بھی اُن کے ساتھ لا پرواہی وہ غیر مذہب والوں کی شہادت سے اس پر ثابت ہو سکتے ہیں یا وہ آپ ہی ایک عرصہ تک صحبت میں رو کر یقین کامل کے مرتبہ تک پہنچ سکتا ہے اور جو دوسرے لوازم اور خصوصیات اسلام ہیں وہ بھی سب صحبت سے کھل سکتے ہیں لیکن اس جگہ یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ جو کچھ عجائب وغرائب اہل حق پر منکشف ہوتے ہیں اور جو کچھ برکات ان میں پائے جاتے ہیں وہ کسی طالب پر تب کھولے جاتے ہیں کہ جب وہ طالب کمال صدق اور اخلاص سے بہ نیت ہدایت پانے کے رجوع کرتا ہے اور جب وہ ایسے طور سے رجوع کرتا ہے تو تب جس قدر اور جس طور سے انکشاف مقدر ہوتا ہے وہ بارادہ ۴۶۱ کی خالص الہی ظہور میں آتا ہے مگر جس جگہ سائل کے صدق اور نیت میں کچھ فتور ہوتا ہے اور سینہ خلوص سے خالی ہوتا ہے تو پھر ایسے سائل کو کوئی نشان دکھلایا نہیں جاتا یہی عادت خداوند تعالی کی انبیاء کرام سے ہے جیسا کہ یہ بات انجیل کے مطالعہ سے نہایت ظاہر ہے کہ کئی مرتبہ یہودیوں نے مسیح سے کچھ معجزہ دیکھنا چاہا تو اس نے معجزہ دکھلانے سے صاف انکار کیا اور کسی گزشتہ معجزہ کا بھی حوالہ نہ دیا چنانچہ مرقس کی انجیل کے آٹھ باب اور باراں آیت میں بھی اسی کی تصریح ہے اور عبارت مذکور یہ ہے ۔ تب فریسی نکلے اور اس سے ( یعنی مسیح سے ) حجت کر کے اس کے امتحان کے لئے آسمان سے کوئی نشان چاہا اس نے اپنے دل میں آہ کھینچ کر کہا اس زمانہ کے لوگ کیوں نشان چاہتے ہیں۔ میں تم سے بچ کہتا ہوں کہ اس زمانہ کے لوگوں کو کوئی نشان دیا نہ جائے گا۔ سواگر چہ ابظاہر دلالت عبارت اسی پر ہے۔ کہ مسیح سے کوئی معجزہ صادر نہیں ہوا لیکن اصلی معنے اس کے یہی ہیں کہ اُس وقت تک مسیح سے کوئی معجزہ ظہور میں نہیں آیا تھا تب ہی اس نے کسی گذشتہ معجزہ کا حوالہ نہیں دیا کیونکہ