براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 540
۴۵۰ روحانی خزائن جلد ۱ ۵۳۸ براہین احمدیہ حصہ چہارم حاشیه بقيه۔ J ہے وہ کیونکر ایسے وساوس سے نجات پاسکتا ہے اور کیونکر اس کا دل اطمینان پکڑ سکتا ہے کہ با وجود ایسے عجیب حوض گے جس میں ہزاروں لنگڑے اور کو لے دعا میں روٹی ہی مانگا کرتے ہیں ۔ اور اگر کھا پی کر اور پیٹ بھر کر بھی گرجا میں آویں پھر بھی جھوٹ موٹ اپنے تئیں بھو کے ظاہر کر کے روٹی مانگتے رہتے ہیں گویا ان کا مطلوب اعظم روٹی ہی ہے وہیں ۔ آریہ سماج والے اور دوسرے ان کے ہے۔ از انجملہ ایک مقام تو کل ہے جس پر نہایت مضبوطی سے ان کو قائم کیا جاتا ہے اور ان کے غیر کو وہ چشمہ صافی ہرگز میسر نہیں آسکتا بلکہ انہیں کے لئے وہ خوشگوار اور موافق کیا جاتا ہے ۔ اور نور معرفت ایسا ان کو تھامے رہتا ہے کہ وہ بسا اوقات طرح طرح کی بے سامانی میں ہوکر اور اسباب عادیہ سے بکلی اپنے تئیں دور پا کر پھر بھی ایسی بشاشت اور انشراح خاطر سے زندگی بسر کرتے ہیں اور ایسی خوشحالی سے دنوں کو کاٹتے ہیں کہ گویا ان کے پاس ہزار ہا خزائن ہیں۔ ان کے چہروں پر تو نگری کی تازگی نظر آتی ہے اور صاحب دولت ہونے کی مستقل مزاجی دکھائی دیتی ہے اور تنگیوں کی حالت میں بکمال کشادہ دلی اور یقین کامل اپنے مولیٰ کریم پر بھروسہ رکھتے ہیں۔ سیرت ایثار اُن کا مشرب ہوتا ہے اور خدمت خلق ان کی عادت ہوتی ہے اور کبھی انقباض ان کی حالت میں راہ نہیں پاتا اگر چہ سارا جہان ان کا عیال ہو جائے اور فی الحقیقت خدائے تعالی کی ستاری مستو جب شکر ہے جو ہر جگہ ان کی پردہ پوشی کرتی ہے اور قبل اس کے جو کوئی آفت فوق الطاقت نازل ہو ان کو دامن عاطفت میں لے لیتی ہے کیونکہ اُن کے تمام کاموں کا خدا متوتی ہوتا ہے۔ جیسا کہ اس نے آپ ہی فرمایا ہے ۔ وَهُوَ يَتَوَلَّى الصّلِحِينَ ۔ لیکن دوسروں کو دنیا داری کے دل آزار اسباب میں چھوڑا جاتا ہے اور وہ خارق عادت سیرت جو خاص ان لوگوں کے ساتھ ظاہر کی جاتی ہے کسی دوسرے کے ساتھ ظاہر نہیں کی جاتی ۔ اور یہ خاصہ ان کا بھی صحبت سے بہت الاعراف: ۱۹۷