براہین احمدیہ حصہ چہارم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 538 of 849

براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 538

روحانی خزائن جلد ۱ ۵۳۶ براہین احمدیہ حصہ چہارم ۴۳۸ آدمی تھا جس نے اپنے عجائبات کے دکھلانے میں اس قدیمی حوض سے کچھ مدد نہیں لی اور سچ سچ معجزات ہی دکھائے ہیں اور اگر چہ قرآن شریف ۴۴۸ کی طلب میں کوشش نہیں کرتا اور نہ اس کی کچھ پر واہ رکھتا ہے وہ خدا کے نزدیک ایک کجرو آدمی ہے اور اگر وہ خدا سے بہشت اور عالم ثانی کی راحتوں کا طالب ہو تو حکمت الہی اسے یہی جواب دیتی ہے کہ اے نادان اول صراط مستقیم کو بقیه حاشیه در حاشیه نمبر ۳ میں پڑ کر بلا اختیار بول اٹھتے ہیں کہ ان کے علوم و معارف ایک دوسرے عالم سے ہیں جو تائیدات الہی کے رنگ خاص سے رنگین ہیں اور اس کا ایک یہ بھی ثبوت ہے کہ اگر کوئی منکر بطور مقابلہ کے الہیات کے مباحث میں سے کسی بحث میں ان کی محققانہ اور عارفانہ تقریروں کے ساتھ کسی تقریر کا مقابلہ کرنا چاہے تو اخیر پر بشرط انصاف و دیانت اس کو اقرار کرنا پڑے گا کہ صداقت حقه ای تقریر میں تھی جو ان کے منہ سے نکلی تھی اور جیسے جیسے بحث عمیق ہوتی جائے گی بہت سے لطیف اور دقیق براہین ایسے نکلتے آئیں گے جن سے روز روشن کی طرح ان کا سچا ہونا کھلتا جائے گا چنانچہ ہر ایک طالب حق پر اس کا ثبوت ظاہر کرنے کے لئے ہم آپ ہی ذمہ وار ہیں۔ ازاں جملہ ایک عصمت بھی ہے جس کو حفظ الہی سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ اور یہ عصمت بھی فرقان مجید کے کامل تابعین کو بطور خارق عادت عطا ہوتی ہے۔ اور اس جگہ عصمت سے مراد ہماری یہ ہے کہ وہ ایسی نالائق اور مذموم عادات اور خیالات اور اخلاق اور افعال سے محفوظ رکھے جاتے ہیں جن میں دوسرے لوگ دن رات آلودہ اور ملوث نظر آتے ہیں اور اگر کوئی لغزش بھی ہو جائے تو رحمت الہیہ جلد تر ان کا تدارک کر لیتی ہے۔ یہ بات ظاہر ہے کہ عصمت کا مقام نہایت نازک اور نفس امارہ کے مقتضیات سے نہایت دور پڑا ہوا ہے جس کا حاصل ہونا بجر توجہ خاص الہی سے ممکن نہیں مثلاً اگر کسی کو یہ کہا جائے کہ وہ صرف ایک کذب اور دروغ گوئی کی عادت سے اپنے جميع معاملات اور بیانات اور حرفوں اور پیشوں میں قطعی طور پر باز رہے تو یہ اس کے لئے مشکل اور ممتنع