براہین احمدیہ حصہ چہارم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 520 of 849

براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 520

روحانی خزائن جلد ۱ ۵۱۸ براہین احمدیہ حصہ چہارم ۲۳۳ دکھلاویں کہ انبیاء سے جو عجائبات اس قسم کے ظاہر ہوئے ہیں کہ کسی نے سانپ ۲۳۳ قوت ظاہری ہو یا باطنی اپنے مناسب حال لذت اٹھانے سے محروم نہیں رہے گی اور جسم اور جان دونوں راحت یا عذاب اُخروی میں یعنی جیسی کہ صورت ہو شریک ہو جائیں گے ۔ ہوا ہے ایک ایسے صانع کی ضرورت ہے جو اپنی ذات میں مد تبر بالا رادہ اور حکیم اور علیم اور رحیم اور غیر فانی اور تمام صفات کا ملہ سے متصف ہو۔ سو وہی اللہ ہے جس کو اپنی ذات میں کمال نام حاصل ہے۔ پھر بعد ثبوت وجود صانع عالم کے طالب حق کو اس بات کا سمجھانا ضروری تھا کہ وہ صانع ہر ایک طور کی شرکت سے پاک ہے سو اس کی طرف اشارہ فرمایا قُلْ هُوَ اللَّهُ اَحَدٌ اللَّهُ الصَّمَدُ الخ اس اقل عبارت کو جو بقدر ایک سطر بھی نہیں دیکھنا چاہئے کہ کس لطافت اور عمدگی سے ہر ایک قسم کی شراکت سے وجود حضرت باری کا مزہ ہونا بیان فرمایا ہے اس کی تفصیل یہ ہے کہ شرکت از روئے حصر عقلی چار قسم پر ہے کبھی شرکت عدد میں ہوتی ہے اور کبھی مرتبہ میں اور کبھی نسب میں اور کبھی فعل اور تاثیر میں ۔ سو اس سورۃ میں ان چاروں قسموں کی شرکت سے خدا کا پاک ہونا بیان فرمایا اور کھول کر بتلا دیا کہ وہ اپنے عدد میں ایک ہے دو یا تین نہیں اور وہ صمد ہے یعنی اپنے مرتبہ وجوب اور محتاج الیہ ہونے میں منفرد اور یگانہ ہے اور بجز اس کے تمام چیزیں ممکن الوجود اور بالک الذات ہیں۔ جو اس کی طرف ہر دم محتاج ہیں اور وہ لم یلد سے ہے یعنی اس کا کوئی بیٹا نہیں تا بوجہ بیٹا ہونے کے اس کا شریک ٹھہر جائے اور وہ لم یولد سے ہے یعنی اس کا کوئی باپ نہیں تا بوجہ باپ ہونے کے اس کا شریک بن جائے اور وہ لم یکن له کفوا سے ہے یعنی اس کے کاموں میں کوئی اس سے برابری کرنے والا نہیں تا باعتبار فعل کے اس کا شریک قرار پاوے۔ سواس طور سے ظاہر فر ما دیا کہ خدائے تعالیٰ چاروں قسم کی شرکت سے پاک اور منزہ ہے اور وحدہ لاشریک ہے۔ پھر بعد اس کے اس کے وحدہ لاشریک ہونے پر ایک عقلی دلیل بیان فرمائی اور کہا لو كَانَ فِيْهِمَا آلِهَةً إلَّا اللهُ لَفَسَدَنَا - وَمَا كَانَ مَعَهُ مِنْ إله الخ تے یعنی اگر زمین آسمان میں بجز اُس اتا الاخلاص : ۲ تا ۵ الانبياء: ۲۳ المؤمنون: ۹۲