براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 519
روحانی خزائن جلد ۱ ۵۱۷ براہین احمدیہ حصہ ہیں گو وہ مکر اور فریب ہی ہیں مگر اب مخالف بداندیش پر کیونکر ثابت کر کے فیضان کرے گا ۔ جس لذت کا ملہ کو سعید لوگ نہ صرف باطنی طور پر بلکہ صور مشہودہ اور محسوسہ میں بھی مشاہدہ کریں گے اور قومی انسانیہ میں سے کوئی راز دقیق سے بے خبر رہے کہ حیات حقیقی اور ہستی حقیقی اور قیام حقیقی صرف خدا ہی کے لئے مسلم ہے یہ عمیق معرفت اسی آیت سے انسان کو حاصل ہوتی ہے جس میں خدا نے فرمایا کہ حقیقی طور پر زندگی اور بقاء زندگی صرف اللہ کے لئے حاصل ہے جو جامع صفات کا ملہ ہے اس کے بغیر کسی دوسری چیز کو وجود حقیقی اور قیام حقیقی حاصل نہیں اور اسی بات کو صانع عالم کی ضرورت کے لئے دلیل ٹھہرایا اور فرمایا لَهُ مَا فِي السَّمَوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ ے یعنی جبکہ عالم کے لئے نہ حیات حقیقی حاصل ہے نہ قیام حقیقی تو بالضرور اس کو ایک علت موجبہ کی حاجت ہے جس کے ذریعہ سے اس کو حیات اور قیام حاصل ہوا۔ اور ضرور ہے کہ ایسی علت موجبہ جامع صفات کا ملہ اور مدبر بالا رادہ اور حکیم اور عالم الغیب ہو ۔ سو وہی اللہ ہے ۔ کیونکہ اللہ بموجب اصطلاح قرآن شریف کے اس ذات کا نام ہے جو تجمع کمالات تامہ ہے اسی وجہ سے قرآن شریف میں اللہ کے اسم کو جمیع صفات کا ملہ کا موصوف شہرایا ہے اور جابجا فرمایا ہے کہ اللہ وہ ہے جو کہ رب العالمین ہے ، رحمان ہے، رحیم ہے، مدیر بالا رادہ ہے، حکیم ہے، عالم الغیب ہے، قادر مطلق ہے، ازلی ابدی ہے وغیرہ وغیرہ۔ سو یہ قرآن شریف کی ایک اصطلاح ٹھہر گئی ہے کہ اللہ ایک ذات جامع جميع صفات کا ملہ کا نام ہے اسی جہت سے اس آیت کے سر پر بھی اللہ کا اسم لائے اور فرمایا اللهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ یعنی اس عالم بے ثبات کا قیوم ذات جامع الکمالات ہے ۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ فرمایا کہ یہ عالم جس ترتیب محکم اور ترکیب ابلغ سے موجود اور مترتب ہے اس کے لئے یہ گمان کرنا باطل ہے کہ انہیں چیزوں میں سے بعض چیزیں بعض کے لئے علت موجبہ ہو سکتی ہیں بلکہ اس حکیمانہ کام کے لئے جو سراسر حکمت سے بھرا البقرة: ۲۵۶