براہین احمدیہ حصہ چہارم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 510 of 849

براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 510

روحانی خزائن جلد 1 ۵۰۸ براہین احمدیہ حصہ چہارم ۳۲۵ اگر کان بند رکھے تو بہرہ ہو جائے گا ۔ اور اگر ہاتھ پاؤں حرکت سے بند رکھے تو ۴۲۵ ۴۲۵ آخر یہ نتیجہ ہو گا کہ ان میں نہ حس باقی رہے گی اور نہ حرکت ۔ اسی طرح اگر قوت حافظہ سے کبھی کام نہ لے تو حافظہ میں فتور پڑے گا ۔ اور اگر قوت متفکرہ مالک حقیقی نے اپنے لطف کامل اور قہر عظیم کے دکھلانے کی غرض سے یعنی جمالی و جلالی صفتوں کی پوری پوری تجلی ظاہر کرنے کے قصد سے ایک اور عالم جو ابدی بقیه حاشیه نمبر ا ا بقیه حاشیه در حاشیه نمبر ۳ اور لازوال ہے مقرر کر رکھا ہے تا خدائے تعالیٰ میں جو صفت مجازات ہے جس کا کامل طور پر اس منقبض اور فانی عالم میں ظہور نہیں ہو سکتا وہ اس ابدی اور شرتیوں میں اپنا منشا ظاہر کرنے میں کون سی بلاغت دکھلائی ہے۔ اور آپ ہی بولیں کہ کیا اس کی تقریر فصیح تقریروں کی طرح پُر زور اور مدلل ہے یا پوچ اور پچر ہے۔ منصفین پر پوشیدہ نہیں کہ ان شرتیوں میں بجائے اس کے کہ حق الامر کو اپنی خوش بیانی کے ذریعہ سے ظاہر کیا جاتا اور راستی کے پھیلانے کے لئے کوشش کی جاتی ۔ خود مضمون شرتیوں کا ایسا بے سروپا اور مہمل ہے ۔ جس سے سامع اس کا ایک دبدہا میں پڑ جاتا ہے۔ کبھی ایک چیز کو خالق ٹھہراتا ہے اور اس سے مرادیں مانگتا ہے۔ کبھی اسی کو مخلوق بناتا ہے اور دوسرے کی محتاج قرار دیتا ہے۔ کبھی کسی کے لئے خدا کی صفتیں قائم کرتا ہے۔ اور پھر اسی کی طرف فانی چیزوں کی صفتیں منسوب کرتا ہے ۔ 2 اور ظاہر ہے کہ جس نے اس قدر کلام کو طول دیا۔ اور پھر ما حصل اس کا خاک بھی نہیں ۔ نہ توحید کا مدعی ہو کر توحید کو بیان کیا ہے۔ نہ مخلوق پرستی کا مدعی ہو کر مخلوق پرستی کو به پایہ ثبوت پہنچایا ہے۔ بلکہ سراسیمہ اور محبط الحواس آدمی کی طرح ایسی تقریر بے بنیاد اور متناقض کی ہے کہ جس سے ہندو مذہب میں عجب طرح کی گڑ بڑ پڑ گئی ہے۔ اور کوئی کسی دیوتا کا پوجاری اور کوئی کسی دیوتا کا بھجن گا رہا ہے۔ کیا ایسی تقریر سرا پا فضول و مہمل اس لائق ہو سکتی ہے کہ کوئی دانا اس کو بلیغ و فصیح کہے۔ شاید بعض ہندو صاحب جنہوں نے فقط وید کا نام سن رکھا ہے