براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 492
روحانی خزائن جلد ۱ ۴۹۰ براہین احمدیہ حصہ چہارم ۱۰ ہمارے اس بیان کے لئے شاہد ناطق اور قولِ فیصل ہے اور ان سب دقائق حقائق قرآنیہ پر مطلع ہونے سے ہر ایک شخص کو بشر طیکہ نرا اندھا نہ ہو ۔ یہ ماننا پڑے گا کہ صد با حقائق اور معارف جو افلاطون اور ارسطو وغیرہ کے خواب میں بھی نہیں طور پر بھی تام اور کامل نہیں سمجھتے اور خدائے تعالیٰ کو اس قدرت سے عاجز اور در ماندہ خیال کرتے ہیں کہ وہ اپنی ربوبیت تامہ کے تقاضا سے اپنا روشن اور لاریب فیہ کلام انسانوں کی ہدایت کے لئے نازل کرتا ۔ ۴۱۰ حاشیه نمبراا بقیه حاشیه در حاشیه نمبر ۳ یہ معنے کئے ہیں کہ اندر نے بزعم آریا لوگوں کے آریا قوم پر جو بہ نسبت قدیم باشندوں کے گورے رنگ کے تھے کھیت ان قدیم لوگوں کی تقسیم کر دی مگر یہ معنے درست نہیں ہیں ۔ وید کا سیاق سباق صریح ان کے برخلاف ہے۔ اے اندر تیرے ہی سبب سے خوراک کی ہر جگہ کثرت ہے اور وہ با سانی دستیاب ہو سکتی ہے۔ اے بجر کے گھمانے والے چراگاہوں کو سر سبز کر دے اور بہت دولت عطا کر۔ ہم اندر کی طرف اس کی شفقت اور دولت اور کامل طاقت حاصل کرنے کے لئے رجوع ہوتے ہیں کیونکہ وہ طاقتور اندر دولت بخش کر ہماری رکشا کرنے کے قابل ہے۔ اے سورج اور چاند ہمارے یگ کو کامیاب کرو اور ہماری قوت زیادہ کرو تم بہت آدمیوں کے فائدہ کے واسطے پیدا ہوئے ہو۔ بہتوں کو تمہارا ہی آسرا ہے۔ سورج کے نکلنے پر ستارے معہ رات کے چوروں کی مانند بھاگ جاتے ہیں ہم سورج دیوتا کے پاس جاتے ہیں جو دیوتاؤں کے درمیان نہایت عمدہ دیوتا ہے۔ اے چاند ہمیں تہمت سے بچا گناہ سے محفوظ رکھ ۔ ہماری تو کل سے خوش ہوکر ہمارا دوست ہو جا۔ ایسا ہو کہ تیری قوت زیادہ ہو۔ اے چاند تو دولت کا بخشنے والا ہے اور مشکلوں سے نجات دینے والا ہمارے مکان پر دلیر بہادروں کے ہمراہ آ۔ اے چاند اور اگنی تم مرتبہ میں برابر ہو ہماری تعریفوں کو آپس میں بانٹ لو کیونکہ تم ہمیشہ دیوتاؤں کے سردار ہی ہو۔ میں جل دیوتا کو جس میں ہمارے مویشی پانی پیتے ہیں بلاتا ہوں۔ دریا جو بہہ رہے ہیں ان کو نذریں چڑھانی چاہئیں۔