براہین احمدیہ حصہ چہارم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 487 of 849

براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 487

روحانی خزائن جلد ۱ ۴۸۵ براہین احمدیہ حصہ چہارم بقیه حاشیه نمبراا 13 ذریعہ ہی مفقود ہو جا تا تو پھر انسان کن امور میں نظر اور فکر کرتا ۔ اور اگر وہ (۴۰۶ نظر اور فکر نہ کرتا تو ایک حد معلوم اور محدود پر اس کو بھی مثل اور جانداروں کے ٹھہرنا پڑتا اور ترقیات غیر متناہی کی قابلیت نہ رکھتا ۔ پس اس صورت میں کے آگے بے شمار میدان قدرتوں کے پڑے ہیں ۔ نہ اندرونی طور پر کسی جگہ انتہا ہے ۴۰۶ اور نہ بیرونی طور پر کوئی کنارہ ہے۔ جس طرح یہ ممکن ہے کہ خدا تعالی ایک مشتعل آگ کی تیزی فرو کرنے کے لئے خارج میں کوئی ایسے اسباب پیدا کرے جن سے اس آگ کی تیزی جاتی رہے۔ اسی طرح یہ بھی ممکن ہے کہ خدا تعالیٰ اُس آگ کی خاصیت ادا کرنے کے لئے کیسی کیسی موشگافی و دقیقہ رسی انہوں نے کی ہے اور کہاں تک اپنے مدلل و موجز بیان سے جہل کی تاریکی کو اٹھانے کے لئے علم کی روشنی دکھلائی ہے اور وحدانیت الہی کی خوبیاں اور شرک کی قباحتیں ظاہر کی ہیں۔ لیکن اگر کسی کو یہ شک ہو کہ شاید رگ وید میں ایسی شرتیاں بھی ہوں گی، جو کہ بیان توحید میں قرآن شریف کا مقابلہ کر سکیں تو اسے اختیار ہے کہ وہی شرتیاں بید مذکور سے بیان کرے تا آریہ لوگ جور گویدر گوید کر رہے ہیں سب ویدوں سے پہلے اسی کا فیصلہ ہو جائے ۔ اس جگہ یہ بھی یادر ہے کہ قرآن شریف کی بے نظیر بلاغت اور اس کے ہزار ہا دقائق وحقائق جن کے مقابلہ پر انسانی قوتیں ساقط و عاجز ہیں اپنے موقعہ پر ذکر کئے جائیں گے اس جگہ صرف بعض آریوں کے اصرار سے جو کہ بمقابلہ قرآن شریف وید کی بلاغت کا دعوی کرتے ہیں۔ کسی قدر آیات قرآنی اس غرض سے لکھی جاتی ہیں تا کہ ان کی زبان درازی کو ایسے آسان طور پر روکا جائے جس سے منصفین پر وید کا بالکل پیچ اور نا چیز ہونا کھل جائے اور یہ بات ظاہر ہو جائے کہ وید میں اس قدر قوت بیانی بھی نہیں کہ وہ اپنے منشاء مراد کو صفائی سے بیان کر سکے چہ جائیکہ اس کو قرآن شریف کی اعلی بلانتوں کے ساتھ دم مارنے کی طاقت ہو کیونکہ اس موقعہ سے ہر یک منصف سمجھ سکتا ہے کہ جو کتاب اپنے مطلب کو صفائی سے بھی بیان نہیں کر سکتی اس پر اور مراتب بلاغت و فصاحت بقیه حاشیه در حاشیه نمبر ا 61۔16