براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 488
روحانی خزائن جلد ۱ ۴۸۶ براہین احمدیہ حصہ چہارم جس سعادت کے لئے وہ پیدا کیا گیا تھا اس سعادت سے محروم رہ جاتا ۔ سو جس ۲۰۷ خدا نے انسان کو نظر اور فکر کرنے کی قوتیں عنایت کیں ہیں اور اس کو ایک کمال حاصل کرنے کی استعداد بخشی ہے اس کی نسبت یہ کیونکر بد گمان کیا جائے احتراق دور کرنے کے لئے اُسی کے وجود میں کوئی ایسے اسباب پیدا کر دے۔ جن سے خاصیت احراق دور ہو جائے ۔ کیونکہ اُس کی غیر متناہی حکمتوں اور قدرتوں کے آگے کوئی بات ان ہونی نہیں ۔ اور جب ہم اُس کی حکمتوں اور قدرتوں کو غیر متناہی کی توقع رکھنا کمال حماقت ہے۔ اگر دید اس سہل اور آسان طریق میں مقابلہ قرآن شریف کر سکے گا تو پھر شاید وہ ان دقائق قرآنیہ میں بھی مقابلہ کر سکے جن میں قرآن شریف کا یہ دھولی ہے کہ اس کے مقابلہ سے دوسری تمام کتابیں عاجز ہیں ۔ لیکن اگر اسی جگہ آریا صاحبوں کا وید مردہ کی طرح بے حس و حرکت رہ گیا اور ایک ذرہ سی بات میں بھی قرآن شریف کے سامنے دم نہ مار سکا تو پھر ایسے وید پر ناز کر کے یہ خیال کرنا کہ وہ قرآن شریف کے اعلی حقائق و دقائق کا مقابلہ کر لے گا کمال درجہ کی نادانی ہے۔ اور اس جگہ یہ بھی ناظرین پر ظاہر کیا جاتا ہے کہ چونکہ محققین ہنود نے اپنشدوں کو ویدوں میں داخل نہیں سمجھا اور نہ اپنے پر میشر کا کلام ان کو قرار دیا ہے۔ بلکہ صاف صاف یہ رائے ظاہر کی ہے کہ وہ بعض لوگوں کے اپنے ہی خیالات ہیں جیسا کہ پنڈت دیانند کی بھی یہی رائے ہے اور تمام نامی اور لائق فائق پنڈت ۴۰۷ بقيه حاشیه در حاشیه نمبر ۳ اس رائے پر متفق ہیں۔ اس لئے غیر ضروری معلوم ہوا کہ اپنشدوں کے مضامین کی تفتیش کی جائے۔ کیونکہ جب وہ عبارتیں وید میں داخل ہی نہیں ہیں۔ بلکہ با قرار پنڈت دیا نند اور دوسرے محققین کے دید کی تعلیم کے مطابق بھی نہیں ۔ ایک فضول اور بے تعلق حواشی ہیں کہ جو بعض نا سمجھ برہمنوں نے پیچھے سے چڑھا دیئے ہیں۔ تو اس صورت میں گوا اپنشدوں میں کیسی ہی غلطیاں کیوں نہ ہوں مگر اس جگہ ان کا بیان کرنا محض طول بلا طائل ہے۔ ہاں خالص ویدوں میں سے جن کو آر یہ لوگ اپنے پر میشر کا کلام اور ست و دیانوں کا پتک سمجھ رہے ہیں ۔