براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 486
روحانی خزائن جلد 1 ۴۸۴ براہین احمدیہ حصہ چہارم ۴۰۵ نادان میں فرق کیا ہوتا ۔ اس طور سے تو سارے علم ہی برباد ہو جاتے ۔ اور جو حاشیه نمبراا عمدہ معیار استعدادوں کی شناخت کے لئے ہے اور جس ذریعہ سے انسان کی قوت نظر یہ بڑھتی ہے اور استکمال نفس ہوتا ہے وہ مفقود ہو جاتا ۔ اور جب وہ بقيه حاشیه در حاشیه نمبر ۳ ۴۰۵ قادرانہ اور غیر متناہی حکمتیں تصرف فی العالم سے کسی وقت عاجز ہو سکتی ہیں ۔ بلا شبہ اس کا پر زور ہاتھ ذرہ ذرہ پر قابض ہے اور کسی مخلوق کا قیام اور بقا اپنی مستحکم پیدائش کے موجب سے نہیں ۔ بلکہ اسی کے سہارے اور آسرے سے ہے اور اس کی ربانی طاقتوں تو پھر یہ کہنا پڑے گا کہ اس کو بات کرنے کا سلیقہ بالکل یاد نہیں اور اس میں یہ لیاقت ہی نہیں کہ اپنے منشاء کو مخاطبین پر اچھی طرح ظاہر کر سکے تو اس صورت میں وید کا بلاغت کے مرتبہ سے ۲۰۵ ساقط ہونا ایسا ظاہر ہے کہ حاجت بیان نہیں ۔ ایسے کلام کسی عاقل کے نزدیک بلیغ و فصیح نہیں کہلا سکتے جس کے الفاظ معانی پر دلالت نہیں کرتے بلکہ برخلاف مراد اور اور مفاسد کی طرف کھینچتے ہیں ۔ جس شرقی پر نظر ڈال کر دیکھو بجائے رہبری کے رہزنی کر رہی ہے۔ یہ خوب بلاغت ہے اور عجب فصاحت مافی الضمیر سمجھانے کا طریق بھی وید ہی پرختم ہے۔ یوں تو کسی صاحب کو شاید یقین نہ آوے مگر ہم بطور نمونہ رگوید میں سے جو کہ سب ویدوں میں اعلیٰ اور افضل شمار کیا جاتا ہے۔ کسی قدر ا یسی شرتیاں لکھتے ہیں جن کی نسبت آریاؤں کا خیال ہے کہ ان میں توحید کی تعلیم ہے۔ اور پھر بعد اس کے کسی قدر بطور نمونہ وہ آیات لکھیں گے جو کہ قرآن شریف نے توحید کے بارے میں لکھی ہیں تاہر ایک کو معلوم ہو کہ وید اور فرقان میں سے کس نے مسئلہ توحید کو صفائی و شائستگی و پر زور بیان اور بلیغ تقریر میں بیان کیا ہے اور کس کا بیان مہمل اور بے سروپا اور طرح طرح کے شکوک و شبہات میں ڈالتا ہے۔ کیونکہ جیسا کہ ہم لکھ چکے ہیں۔ بلاغت کے آزمانے کے لئے یہی سہل طریق ہے کہ جن دو کلاموں کا موازنہ و مقابلہ منظور ہو۔ ان کی قوت بیانی کو دیکھا جائے کہ کس مرتبہ تک ہے اور اپنے فرض منصبی کے