براہین احمدیہ حصہ چہارم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 485 of 849

براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 485

روحانی خزائن جلد ۱ ۴۸۳ براہین احمدیہ حصہ چہارم بقیه حاشیه نمبراا حکمت اور معرفت میں ترقی کرتے ہیں اور حق الیقین کے اس بلند مینار تک پہنچ جاتے ہیں جو انسانی استعدادوں کے لئے اقصیٰ مراتب سے ہے ۔ اور ظاہر ہے کہ اگر اسرار علمیہ سارے کے سارے بدیہات ہی ہوتے تو پھر دانا اور آجائیں ۔ ان کا مفہوم محدود ہونے کو لازم پڑا ہوا ہے ۔ اور جو حکمتیں اور قدرتیں (۲۰۴) ذات غیر محدود میں پائی جاتی ہیں ۔ ان کا غیر محدود ہونا واجب ہے ۔ کیا کوئی دانا کہہ سکتا ہے کہ اس ذات قادر مطلق کو اس اس طور پر بنانا یاد ہے اور اس سے زیادہ نہیں ۔ کیا اس کی غیر متناہی قدرتیں انسانی قیاس کے پیمانہ سے وزن کی جاسکتی ہیں یا اس کی بلاغت کس قسم کی بلاغت ہے جس کا منشاء تو توحید تھا مگر برخلاف اس کے صد ہادیوتاؤں کا جھگڑا شروع کر دیا جو کلام اپنا منشاء ظاہر کرنے سے بھی عاجز ہے خدا نہ کرے کہ وہ فصیح و بلیغ ہو ۔ کلام بلیغ میں ایسی خرابی کب پڑ سکتی ہے کہ جو امر اصل مقصود بالذات ہو۔ وہی صفائی اور شائستگی سے بیان نہ ہو سکے۔ بلاغت کی اول شرط یہی ہے کہ متکلم اپنا مافی الضمیر ظاہر کرنے پر بخوبی قادر ہو اور جس امر کو ظاہر کرنا چاہے ایسا صفائی سے ظاہر کرے کہ کوئی اشتہاہ باقی نہ رہ جائے ۔ گونگوں کی طرح مبہم اور بے سروپا بات نہ کہے۔ ہاں جس بات کو مخفی رکھنا اور بطور اسرار بیان کرنا مصلحت ہو۔ اس کو مخفی طور پر بیان کرنا ہی بلاغت ہے۔ مگر تو حید جس سے کل معاملہ نجات کا وابستہ ہے ایسا امر ہیں ہے جس کو مخفی رکھنا جائز ہو۔ پس یہ کہنا بھی درست نہیں ہے کہ وید نے بالا رادہ مضمون تو حید کو چیستوں اور پہیلیوں کی طرح بیان کیا ہے اور دانستہ دھوکا دینے والی عبارتیں درج کی ہیں ۔ کیونکہ اس سے یہ ماننا پڑے گا کہ وید نے عمد چندیں کروڑ آدمیوں کو ورطہ ہلاکت میں ڈالنا چاہا اور جان بوجھ کر ایسی عبارتیں لکھی ہیں ۔ جن کے پڑھنے سے مخلوق پرستی کی تعلیم پھیلتی ہے۔ بلکہ اس صورت میں عام ہندوؤں کی یہ رائے درست ہوگی کہ وید کا دلی منشاء یہی تھا کہ آریا قوم کو دیوتاؤں کا پجاری بناوے۔ اور اگر وید کا دلی ارادہ مخلوق پرستی کے برخلاف سمجھیں بقیه حاشیه در حاشیه نمبر ۳