براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 484
روحانی خزائن جلد ۱ ۴۸۲ براہین احمدیہ حصہ چہارم ہیں اور ان نفوس کے لئے مقرر کئے گئے ہیں جن میں صلاحیت اور استعداد تحصیل کمالات فاضلہ کی پائی جاتی ہے ۔ اور جو لوگ ہر یک نجی اور بلید کی (۲۰۳) طرح اس مسائل پر کفایت کرنا نہیں چاہتے وہ بذریعہ ان دقائق کے ہو نا لا زم آ جائے گا ۔ پس بر ہمو سماج والوں کی یہی بھاری غلطی ہے کہ وہ خدائے تعالی کی غیر متناہی قدرتوں اور ر بو بیتوں کو اپنے تنگ اور منقبض تجارب کے دائرہ میں گھسیڑنا چاہتے ہیں اور نہیں سمجھتے کہ جو امور ایک قانون مشخص مقرر کے نیچے کے لئے ضروری ہیں۔ وہ سب بیان کئے ہیں اور وحدانیت الہی کو ثابت کر کے دکھلایا ہے ۔ اور آگ وغیرہ کی پرستش سے منع کیا ہے تو یہ دعوی کسی طرح سرسبز نہیں ہو سکتا۔ کون اس بات کو نہیں جانتا کہ وید کے مضمون اسی کی طرف جھکے ہوئے ہیں کہ تم آگ کی پرستش کرو۔ اندر کے بھیجن گاؤ۔ سورج کے آگے ہاتھ جوڑو ۔ اب ظاہر ہے کہ جس حالت میں بقول تمہارے وید کا یہ منشاء تھا کہ تو حید کو بیان کرے اور سورج چاند و غیرہ کی پرستش سے رو کے اور مشرکوں کو تو حید کے درجہ تک پہنچا دے اور بگڑے ہوئے لوگوں کو اصلاح پر لاوے اور مخلوق پرستوں کو خدا پرست بنا دے اور اہل شرک کے تمام وساوس مٹادے۔ لیکن بجائے اس کے کہ وہ اپنے اس منشاء کو پورا کرتا۔ جا بجا اس کے بیان سے مخلوق پرستی کی تعلیم جمتی گئی، جس تعلیم نے کروڑوں کی کشتی کو ڈبویا۔ لاکھوں کو ورطہ شرک و کفر میں غرق کیا۔ ایک جگہ بھی مونہہ کھول کر وید نے بیان نہ کیا کہ مخلوق پرستی سے باز آ جاؤ۔ آگ وغیرہ کی پوجامت کرو ۔ بجز خدا کے اور کسی چیز سے مرادیں مت مانگو ۔ خدا کو بے مثل و مانند سمجھو۔ اس صورت میں ہر ایک عاقل آپ ہی انصاف کرے کہ کیا فصیح کلام کی یہی نشانیاں ہوا کرتی ہیں کہ مافی الضمیر کچھ ہے اور مونہہ سے کچھ اور ہی نکلتا جاتا ہے۔ اس قدر لغو بیانی تو مجانین اور مسلوب الحواسوں کے کلام میں بھی نہیں ہوتی ۔ وہ بھی اس قدر قوت بیانی رکھتے ہیں کہ اپنا دلی منشاء ظاہر کر دیتے ہیں۔ جب پانی کی خواہش ہو آگ نہیں مانگتے اور اگر روٹی کی طلب ہو تو پتھر نہیں طلب کرتے ۔ مگر میں حیران ہوں کہ وید کی