براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 480
روحانی خزائن جلد ۱ ۴۷۸ براہین احمدیہ حصہ چہارم 3 ایسے ایسے شبہات میں مبتلا ہونا انہیں لوگوں کا کام ہے جو قوانین قدرتیہ میں ذرہ ۲۰۰ غور نہیں کرتے ۔ اور قبل اس کے کہ خدا کی صفات اور عادات کو ( جس طرز سے وہ آئینہ فطرت میں ظاہر ہو رہی ہیں ) بخوبی دریافت کریں پہلے ہی اس کی ذات عالم کے متعلق انسان نے دریافت کیا ہے اور جو کچھ تا دم حال بشری تجارب کے احاطہ میں آچکا ہے یہیں تک خدا کی قدرتوں کی حد بست ہے اور اس سے بڑھ کر اس کی قدرت تامہ اور ربوبیت عامہ کوئی کام نہیں کر سکتی گویا خدا کی قدرتیں اور حکمتیں ہمنگی تمامی یہی ہیں جن کو انسان دریافت کر چکا ہے اور ظاہر ہے کہ یہ اعتقادر بوبیت تامہ اور اسی طرح اندر نے اور ترا کے سر پر ایسا بجر مارا جو اسے ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور پانی قطرہ قطرہ ہوکر یہ نکلا لیکن ظاہر ہے کہ اس قسم کے تلازمات کو قرآن شریف سے کچھ بھی مناسبت نہیں صرف شاعرانہ خیالات ہیں اور پھر بھی ایسے قابل تعریف و با وقعت نہیں بلکہ اکثر مقامات سخت نکتہ چینی کے لائق ہیں۔ مثلاً استعارہ مذکورہ بالا جس میں اندر کو ایک بوچڑ سے تشبیہ دی ہے جس کا کام گائے کا گوشت فروخت کرنا ہے۔ یہ ایک ایسا مضمون ہے کہ جو طیف طبع شاعروں کے کلام میں ہر گز نہیں آسکتا۔ کیونکہ شاعر کو یہ بھی خیال کر لینا لازم ہے کہ میرے اس مضمون سے عام لوگ کراہت تو نہیں کریں سے مگر اس شرقی میں یہ خیال نظر انداز ہو گیا ہے کیونکہ ظاہر ہے کہ ہندو لوگ جو وید کے مخاطب ہیں وہ گائے کے گوشت کا نام سننے سے متنفر ہیں اور ان کی طبیعتوں پر ایسا ذ کر سخت گراں گذرتا ہے۔ اور پھر اندر کو جو وید میں ایک بزرگ دیوتا مقرر ہو چکا ہے بوچڑ سے تشبیہ دینا اور بعد بزرگ قرار دینے کے پھر اس کی ہجو ملیح کرنا شائستگی کلام سے بعید اور ایک طرح کی بے ادبی ہے۔ ماسوا اس کے اس تشبیہ میں ایک اور بھی نقص ہے۔ وہ یہ ہے تشبیہ اس امر میں چاہئے کہ مشہور اور معروف ہو۔ پس یہ کہنا کہ اندر نے ور ترا کو ایسا ٹکڑے ٹکڑے کر دیا جیسے بوچڑ گائے کے گوشت کے ٹکڑے ٹکڑے کرتا ہے۔ یہ تشبیہ فن بلاغت کے رو سے تب درست بیٹھتی ہے کہ جب یہ ثابت ہو کہ وید کے زمانہ میں عام طور پر گائے کا گوشت بازاروں میں بکتا تھا اور بوچڑ لوگ ٹکڑے ٹکڑے کر کے وہ گوشت آریا