براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 479
روحانی خزائن جلد ۱ ۴۷۷ براہین احمدیہ حصہ چہارم کہ ان کی نا واقفیت سے ایک زمانہ دراز تک لوگ بے علاج ہی مرتے رہے (۳۹۹) اور اب تک جمیع خواص مخفیہ پر احاطہ نہ ہوا ۔ لیکن ظاہر ہے کہ بعد تحقق خدا کے عام قانون کے (جو کہ زمین و آسمان میں ایک ہی طرز پر پایا جاتا ہے) کسی مادہ جار کو اس کی تاثیر حرارت سے روک سکے یا کسی مادہ بار د کو اس کی برودت (۳۹۹) بقیه حاشیه در حاشیه نمبر ۳ کے اثروں سے بند کر سکے یا آگ میں اس کی خاصیت احراق کی ظاہر نہ ہونے دے۔ اور اگر اس کو کوئی تو پیر یا د بھی ہے تو صرف انہیں حدود تک جن پر علم انسان کا محیط ہے اس سے زیادہ نہیں یعنی جو کچھ محدود اور محصور طور پر کوائف و خواص با وصف اس کے ضرورت حقہ کے تقاضا سے ذکر ہو نہ غیر ضروری طور پر اور پھر کلام بھی ایسا فصیح اور (۳۹۹) سلیس اور متین ہو کہ جس سے بہتر بنانا ہر گز کسی کے لئے ممکن نہ ہو ۔ اور پھر وہ کلام روحانی برکات بھی اپنے ہمراہ رکھتا ہو۔ یہی قرآن شریف کا دعوی ہے جس کو اس نے آپ ثابت کر دیا ہے۔ اور اور جابجا فرما بھی دیا ہے کہ کسی مخلوق کے لئے ممکن نہیں کہ اس کی نظیر بنا سکے۔ اب جو شخص منصفانہ طور پر بحث کرنا چاہتا ہے۔ اس پر یہ امر پوشیدہ نہیں کہ قرآن شریف کے ساتھ مقابلہ کرنے کے لئے ایسی کتاب کا پیش کرنا ضروری ہے جس میں وہی خوبیاں پائی جائیں جو اس میں پائی جاتی ہیں ۔ سچ ہے کہ وید میں شاعرانہ تلازمات پائے جاتے ہیں اور شاعروں کی طرح انواع اقسام کے استعارات بھی موجود ہیں۔ مثلاً رگ وید میں ایک جگہ آگ کو ایک دولتمند فرض کر لیا ہے جس کے پاس بہت سے جواہرات ہیں اور اس کی روشنی کو جو ہر تاباں سے تشبیہ دی ہے ۔ بعض جگہ اس کو ایک سپہ سالار مقرر کیا ہے جس کی کالی جھنڈی ہے۔ اور دھوئیں کو جو آگ پر اٹھتا ہے ایک علم سیہ ٹھہرا لیا ہے۔ ایک جگہ اس حرارت کو جو بخارات مائی کو اٹھاتی ہے چور مقرر کیا ہے اور اس کا نام بلحاظ قوت ماسکہ ور ترا رکھا ہے اور بخارات کو گوین ٹھہرایا ہے اور اندر جس سے وید میں آسمان کا فضا اور خاص کر کے کرہ زمہر یہ مراد ہے۔ اس کو اس مثال میں قصاب سے تشبیہ دی ہے ۔ اور لکھا ہے کہ جس طرح قصاب گائے کے گوشت کو ٹکڑے ٹکڑے کرتا ہے۔