براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 473
روحانی خزائن جلد ۱ ۴۷۱ براہین احمدیہ حصہ چہارم نے ہے ضرور رکھے ہیں ۔ صرف موٹی باتوں پر ختم نہیں کیا ۔ تو اس تحقیق سے جھوٹ ان ۳۹۴۶ لوگوں کا کھل گیا ۔ جن کا یہ دعویٰ ہے کہ خدا کے کلام میں صرف چندا حکام سریع الفہم چاہئیں ۔ اور لطائف دقیقہ اس میں نہیں چاہئیں اور نہ ہیں ، اس جگہ انہوں نے اپنے اس وہم کے مضبوط کرنے کی غرض سے ایک دلیل بنائی ہوئی ۔ پھر نہ وہاں تو بہ کام آوے نہ بندگی نہ خوف الہی نہ عشق الہی نہ اور کوئی عمل صالح گویا وہ جیتے جی ہی مر گیا۔ اور خدائے تعالیٰ کی رحیمیت سے بکلمی نا امید ہو گیا۔ علی ہذا القیاس یہ لوگ یوم الجزاء پر جس کے رو سے خدائے تعالی مالک یوم الدین کہلاتا ہے صحیح طور پر ایمان نہیں رکھتے اور جن طریقوں (۳۹۴ کے متذکرہ بالا کے رو سے انسان اپنی سعادت عظمیٰ تک پہنچتا ہے یا شقاوت عظمی میں پڑتا ہے اس کامل سعادت اور شقاوت کے ظہور سے انکاری ہیں اور نجات اخروی کو صرف ایک خیالی اور وہمی طور پر سمجھ رہے ہیں۔ بلکہ وہ نجات ابدی کے قائل ہی نہیں ہیں۔ اور ان کا مقولہ ہے کہ انسان کو ہمیشہ کے لئے نہ اس جگہ آرام ہے اور نہ اس جگہ اور نیز ان کے زعم باطل میں دنیا بھی آخرت کی طرح ایک کامل دار الجزاء ہے۔ جس کو دنیا میں بہت سی دولت دی گئی۔ وہ اس کے نیک عملوں کے عوض میں کہ جو کسی پہلے جنم میں اس نے کئے ہوں گے دی گئی ہے اور وہ اس بات کا مستحق ہے کہ 1 نمبراا خون کی طرح بگڑا ہوا ہے۔ نہیں ہرگز نہیں۔ اگر چہ تعصب وہ سخت بلا ہے کہ جو نہ عقل کو چھوڑتا ہے اور نہ سمجھ کو ۔ اور نہ قوت سامعہ اس سے سلیم رہتی ہے اور نہ قوت باصرہ لیکن انسان کو یہ بھی تو ۳۹۴) سوچ لینا چاہئے کہ جن دو چیزوں میں کچھ بھی مشابہت اور مناسبت نہیں ان کو خواہ نخواہ ایک دوسرے کا شیبہ قرار دینے کا آخری نتیجہ ہمیشہ یہی ہوا کرتا ہے کہ ایسے شخصوں کو دانشمند لوگ پاگل اور دیوانہ کہنے لگتے ہیں۔ اے حضرات عیسائیاں آپ لوگ ہندوؤں کی چال نہ چلیں۔ آپ لوگوں میں سے قرآن شریف ہی کے اترنے کے زمانہ میں ایسے نیک سرشت پادری بہت گزرے ہیں۔ جن کے آنسو قرآن شریف کو سن کر نہیں تھمتے تھے ان بزرگ قسمیوں کو یاد کرو جن کی شہادتیں قرآن شریف میں درج ہیں اور جو فرقان مجید کو سن کر ٹھوڑیوں پر گر کر روتے تھے۔ قرآن ہی کی عظمت شان نے ان سے کلمہ بھروایا ۔ تمام کتب الہامیہ پر اپنی فضیلت کا