براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 472
براہین احمدیہ حصہ چہارم ۴۷ روحانی خزائن جلد ۱ کرنا حقیقت میں ایسا تھا کہ گویا منزل تک پہنچانے سے پہلے راستہ میں ہی چھوڑ دیتا ۔ غرض جب خدا کا قانون قدرت ( هر یک چیز میں جو اس کی طرف سے صادر ہے ) یہی ثابت ہوا کہ ان سب میں خداوند تعالیٰ نے دقائق عمیقہ بھی بقیه حاش بقیه حاشیه در حاشیه نمبر ۳ ہیں وہ صفت ربوبیت کو اس رب العالمین سے خاص نہیں سمجھتے اور تینتیس کروڑ دیوتا ر بوبیت کے کاروبار میں خدائے تعالیٰ کا شریک ٹھہراتے ہیں اور ان سے مرادیں مانگتے ہیں اور یہ ہر دو فریق خدائے تعالیٰ کی رحمانیت کے بھی انکاری ہیں اور اپنے وید کے رو سے یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ رحمانیت کی صفت ہرگز خدائے تعالی میں نہیں پائی جاتی اور جو کچھ دنیا کے لئے خدا نے بنایا ہے یہ خود دنیا کے نیک عملوں کی وجہ سے خدا کو بنانا پڑا۔ ورنہ پر میشر خود اپنے ارادہ سے کسی سے نیکی نہیں کرسکتا اور نہ کبھی کی ۔ اسی طرح خدائے تعالی کو کامل طور پر رحیم بھی نہیں سمجھتے کیونکہ ان لوگوں کا اعتقاد ہے کہ کوئی گنہ گار خواہ کیسا ہی بچے دل سے تو بہ کرے اور خواہ وہ سالہا سال تضرع اور زاری اور اعمال صالح میں مشغول رہے۔ خدا اس کے گناہوں کو جو اس سے صادر ہو چکے ہیں۔ ہرگز نہیں بخشے گا۔ جب تک وہ کئی لاکھ جونوں کو بھگت کر اپنی سزا نہ پالے۔ جب ہی کسی نے ایک گناہ کیا ينقلبون الجزو نمبر 19۔ یعنی شاعروں کے پیچھے وہی لوگ چلتے ہیں جنہوں نے حق اور حکمت کا راستہ چھوڑ دیا ہے۔ کیا تو نہیں دیکھتا شاعر تو وہ لوگ ہیں جو قافیہ اور ردیف اور مضمون کی تلاش میں ہر یک جنگل میں بھٹکتے پھرتے ہیں حقانی باتوں پر ان کا قدم نہیں جمتا اور جو کچھ کہتے ہیں وہ کرتے نہیں۔سو ظالم لوگ جو خدا کے حقانی کلام کو شاعروں کے کلام سے تشبیہہ دیتے ہیں انہیں عنقریب معلوم ہوگا کہ کس طرف پھریں گے۔ اب دانا کو سوچنا چاہئے کہ کیا اس سے زیادہ تر نا انصافی کوئی اور بھی ہوگی کہ حق محض کو اغو محض سے تشبیہ دی جائے یا ظلمت کو نور سے برابر ٹھہرایا جائے ۔ کیا ایسی کتابیں اس کتاب مقدس سے کچھ نسبت رکھتی ہیں جن کے چہرہ پر فضول گوئی کا داغ اور جھوٹ اور ہرزہ درائی کا دھبہ اس قدر پھیل گیا ہے جس کو دیکھ کر ہر یک پاک دل آدمی کو نفرت اور کراہت آتی ہے۔ کیا ایسی کتابیں ان صحف مطہرہ سے مشابہ کہلائیں گی جن کتابوں کا مادہ مجزوم کے الشعراء : ۲۲۵ تا ۲۲۸ ۳۹۳ ۳۹۳