براہین احمدیہ حصہ چہارم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 471 of 849

براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 471

روحانی خزائن جلد ۱ ۴۶۹ براہین احمدیہ حصہ چہارم في السموات والارض پائے جاتے ہیں۔ ان کی اصلاح کے لئے اس میں سامان موجود ہو ۔ پس اگر وہ ناقص ہو تو اتنے بڑے کام اس سے کیونکر انصرام ہوسکیں ۔ اگر وہ تمام غلطیوں سے انسان کو پاک نہ کر سکتا تو پھر صرف بعض غلطیوں سے پاک (۳۹۳ نمبراا بقیه حاشیه در حاشیه نمبر ۳ نہیں کرشن کی خدائی اس سے قومی تر ہے۔ اسی طرح کوئی بدھ کو کوئی کسی کو کوئی کسی کو خدا ٹھہراتا ہے۔ ایسا ہی آخری زمانہ کے ان سادہ لوحوں نے بھی پہلے مشرکوں کی ریس کر کے ابن مریم کو بھی خدا اور خدا کا فرزند ٹھہرالیا ۔ غرض عیسائی لوگ نہ خداوند حقیقی کو رب العالمین سمجھتے ہیں نہ اسے رحمان اور رحیم خیال کرتے ہیں اور نہ جزا سزا اس کے ہاتھ میں یقین رکھتے ہیں، بلکہ ان کے گمان میں حقیقی خدا کے وجود سے زمین اور آسمان خالی پڑا ہوا ہے اور جو کچھ ہے ابن مریم ہی ہے۔ اگر رب ہے تو وہی ہے۔ اگر رحمان ہے تو وہی ہے ۔ اگر رحیم ہے تو وہی ہے ۔ اگر مالک یوم الدین ہے تو وہی ہے۔ ایسا ہی عام ہندو اور آریہ بھی ان صداقتوں سے منحرف ہیں۔ کیونکہ ان میں سے جو آریہ ہیں۔ وہ تو خدائے تعالی کو خالق ہی نہیں سمجھتے۔ اور اپنی روحوں کا رب اس کو قرار نہیں دیتے۔ اور جو ان میں سے ثبت پرست گئے اور جو مضمون دل کو اچھا لگا وہی جھک ماری ۔ نہ حق اور حکمت کی پابندی ہے اور نہ فضول گوئی سے پر ہیز ہے اور نہ یہ خیال ہے کہ اس کلام کے بولنے کے لئے کون سی سخت ضرورت (۳۹۲) در پیش ہے اور اس کے ترک کرنے میں کون سا سخت نقصان عائد حال ہے ناحق بے فائدہ فقرہ سے فقرہ ملاتے ہیں۔ سر کی جگہ پاؤں ، پاؤں کی جگہ سر لگاتے ہیں۔ سراب کی طرح چمک تو بہت ہے پر حقیقت دیکھو تو خاک بھی نہیں۔ شعبدہ باز کی طرح صرف کھیل ہی کھیل اصلیت دیکھو تو کچھ بھی نہیں۔ نادار ۔ ناطاقت اور نا تو ان اور گئے گزرے ہیں آنکھیں اندھی اور اس یر عشوه گری ان کی نسبت نہایت ہی نرمی کیجئے تو یہ کہیئے کہ وہ سب ضعیف اور کیا ہونے کی وجہ سے عنکبوت کی طرح ہیں اور ان کے اشعار بیت معنکبوت ہیں ۔ ان کی نسبت خداوند کریم نے خوب فرمایا ہے وَالشُّعَرَاء يَتَّبِعُهُمُ الْغَاوُنَ أَلَمْ تَرَ أَنَّهُمْ فِي كُلِّ وَادٍ يَهِيمُونَ وَأَنَّهُمْ يَقُولُونَ مَا لَا يَفْعَلُوْنَ وَسَيَعْلَمُ الَّذِينَ ظَلَمُوا أَيَّ مُنْقَلَبٍ