براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 469
۴۶۷ براہین احمدیہ حصہ چہارم روحانی خزائن جلد ۱ انسان پیدا کیا گیا ہے۔ اس سعادت تک وہ پہنچ جائے ۔ غرض خدا کے جتنے کام ہیں ۔ وہ صرف موٹی صنعت پر ختم نہیں ہو سکتے ۔ بلکہ ان میں جس قدر کھودتے جاؤ ۔ زیادہ (۳۹) ، نمبراا سے زیادہ باریکیاں نکلتی ہیں ۔ پس جبکہ ان تمام چیزوں کی نسبت جو خدا کی طرف سے ہیں ۔ یہ عام قانون ثابت ہو چکا کہ وہ سب نکات دقیقہ اور اسرار عمیقہ سے پر ندر ہے ۔ اور جو خدا کی صفات کا ملہ تھی وہ سب ابن مریم پر تھاپ دی ۔ اور ان کے مذہب کا خلاصہ یہ ہے کہ خدائے تعالیٰ جمیع مافی العالم کا رب نہیں ہے بلکہ مسیح اس کی ربوبیت سے باہر ہے بلکہ مسیح آپ ہی رب ہے۔ اور جو کچھ عالم میں پیدا ہوا وہ بزعم باطل ان کے بطور قاعدہ کلیه مخلوق اور حادث نہیں بلکہ ابن مریم عالم کے اندر حدوث پا کر اور صریح مخلوق ہو کر پھر غیر مخلوق اور خدا کے برابر بلکہ آپ ہی خدا ہے ۔ اور اس کی عجیب ذات میں ایک ایسا اعجوبہ ہے کہ با وجود حادث ہونے کے قدیم ہے ۔ اور باوجود اس کے کہ خود اپنے اقرار سے ایک واجب الوجود کے ماتحت اور اس کا محکوم ہے۔ مگر پھر بھی آپ ہی واجب الوجود اور آزاد مطلق اور کسی کا ماتحت نہیں ۔ اور باوجود اس کے کہ خود اپنے تو پھر وہ خدا کا کلام ہی نہیں رہتا ۔ اس لئے وہ خود اپنے تمام بیانات کو بہ پایہ ثبوت پہنچاتا ہے ۔ لیکن کوئی شاعر اس بات کا ذمہ وار نہیں ہو سکتا اور نہ کبھی ہوا کہ اس کا کلام ہر ایک قسم کے کذب اور ہنرل اور غیر ضروری باتوں سے پاک اور ضروری اور لا بدی امور پر احاطہ رکھتا ہے ۔ پھر جبکہ شاعروں کی فضول باتوں کو وہ مراتب حاصل نہیں ہیں کہ جو خدائے تعالی کے پاک کلام کو حاصل ہیں اور نہ اس بارے میں شاعر کچھ دم مارتے ہیں اور نہ ذمہ وار بنتے ہیں ۔ بلکہ اپنے عجز کے آپ ہی اقراری ہیں ۔ تو کلام الہی کے مقابلہ پر ان کا ناچیز کلام پیش کرنا کیسی سفاہت اور نادانی ہے ۔ (۳۹۱ بقیه حاشیه در حاشیه نمبر ۳ شاعر تو اگر مر بھی جاویں تو صداقت اور راستی و ضرورت حقہ کا اپنے کلام میں التزام