براہین احمدیہ حصہ چہارم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 468 of 849

براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 468

روحانی خزائن جلد ۱ ۴۶۶ براہین احمدیہ حصہ چہارم انسان کے استعمال قوت نظریہ سے وابستہ ہے ۔ اس لئے اس حکیم مطلق نے اکثر (۳۹۰ دقائق اور حقائق کو ایسے طور پر مخفی رکھا ہے کہ جب تک انسان اپنی خدا دا د قوت کو بکمال اجتہاد استعمال میں نہ لاوے۔ ان دقائق کا انکشاف نہیں ہوتا ۔ اس سے حکیم مطلق کا یہ ارادہ ہے کہ ترقی کرنے کا راستہ کھلا رہے ۔ اور جس سعادت کے لئے خیالات ان کے فاسد ہو گئے تھے اور خدائے تعالیٰ کی صفات کاملہ ربوبیت و رحمانیت و رحیمیت اور مالک یوم الدین ہونے پر اعتقاد نہیں رکھتے تھے نہ ان صفتوں کو اس کی ذات سے مخصوص سمجھتے تھے اور نہ ان صفتوں کا کامل طور پر خدائے تعالی میں پایا جانا یقین رکھتے تھے بلکہ بہت سی بد گمانیاں اور بے ایمانیاں اور آلودگیاں ان کے اعتقادوں میں بھر گئی تھیں اور توریت کی تعلیم کو انہوں نے نہایت بدشکل چیز کی طرح بنا کر شرک اور بدی کی بد بو کو پھیلا نا شروع کر رکھا تھا۔ پس وہ لوگ خدائے تعالیٰ کو جسمانی اور جسم قرار دینے میں اور اس کی ربوبیت اور رحمانیت اور رحیمیت و غیر وصفات کے معطل جاننے میں اور ان صفتوں میں دوسری چیزوں کو شریک گرداننے میں اکثر مشرکین کے پیشوا اور سابقین اولین میں سے ہیں۔ بقیه حاشیه در حاشیه نمبر ۳ یہ تو یہودیوں کا حال ہوا ۔ مگر افسوس کہ عیسائیوں نے تھوڑے ہی دنوں میں اس سے بدتر اپنا حال بنا لیا ۔ اور مذکورہ بالا صداقتوں میں سے کسی صداقت پر قائم کمال مطلوب تک پہنچتے ہیں ۔ اور یہی وہ صنعت ربانی ہے جس کا انجام پذیر ہونا بجز الہی طاقت اور اس کے علم وسیع کے ممکن نہیں ۔ خدائے تعالیٰ اپنے کلام کے ایک ایک فقرہ کی سچائی کا ذمہ وار ہے اور جو کچھ اس کی تقریر میں واقعہ ہے خواہ وہ اخبار اور آثار گذشتہ میں خواہ وہ آئندہ کی خبر میں اور پیشنگوئیاں ہیں اور خواہ وہ علمی اور دینی صداقتیں ہیں ۔ وہ تمام کذب اور ہنرل اور بیہودہ گوئی کے داغ سے منزہ ہیں ۔ اور اگر ایک ذرہ بھی خلاف گوئی یا فضولی اور لاف و گزاف ان میں پایا جاوے۔