براہین احمدیہ حصہ چہارم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 463 of 849

براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 463

روحانی خزائن جلد ۱ ۴۶۱ براہین احمدیہ حصہ چہارم فکر اور نظر کی ورزش بکار ہے ۔ اور پھر بھی یہ توقع نہیں کہ تمام اسرار حکمیہ باستيفاء تام حاصل ہو جائیں گے اور اسی وقت کے باعث سے اب تک انسان کو گویا دریا میں سے ایک قطرہ بھی حاصل نہیں ہوا ۔ چاہئے تھا کہ سب عجائب اور بقيه حاشیه در حاشیه نمبر اور دوری کے دلوں سے مشتعل ہو کر بدنوں پر مستولی ہو جائے اور تمام وجود فی النار والسقر معلوم ہو۔ اور یہ تجلیات عظمیٰ اس عالم میں ظاہر نہیں ہو سکتیں کیونکہ اس تنگ اور منقبض اور مکدر عالم کو جو روپوش اسباب ہو کر ایک ناقص حالت میں پڑا ہے۔ ان کے ظہور کی برداشت نہیں۔ بلکہ اس عالم پر ابتلاء اور آزمائش غالب ہے۔ اور اس کی راحت اور رنج دونوں نا پائیدار اور ناقص ہیں۔ اور نیز اس عالم میں جو کچھ انسان پر وارد ہوتا ہے وہ زیر پردہ اسباب ہے ۔ جس سے مالک الجزاء کا چہرہ مجوب اور مکتوم ہو رہا ہے۔ اس لئے یہ خالص اور کامل اور منکشف طور پر یوم الجزاء نہیں ہوسکتا بلکہ خالص اور کامل اور منکشف طور پر یوم الدین یعنی یوم الجزاء وہ عالم ہوگا کہ جو اس عالم کے ختم ہونے کے بعد آوے گا اور وہی عالم تجلیات کا عظمی مظہر اور جلال اور جمال کے پوری ظہور کی جگہ ہے۔ اور چونکہ یہ عالم دنیوی اپنی اصل وضع کے رو سے دار الجزاء نہیں بلکہ دارالابتلاء ہے اس لئے جو کچھ عسر و یسرو راحت و تکلیف اور غم اور خوشی اس عالم میں لوگوں پر وارد ہوتی ہے اس کو خدائے تعالیٰ کے لطف یا قبر ۳۸۶ پر دلالت قطعی نہیں مثلا کسی کا دولتمند ہو جانا اس بات پر دلالت قطعی نہیں کرتا کہ خدائے تعالیٰ اس پر خوش ہے اور نہ کسی کا مفلس اور نادار ہونا اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ خدا تعالی اس پر ناراض ہے بلکہ یہ دونوں طور کے ابتلاء ہیں تا دولتمند کو اس کی دولت میں اور مفلس کو اس کی مفلسی میں جانچا جائے ۔ یہ چار صداقتیں ہیں جن کا قرآن شریف میں مفصل بیان موجود ہے ۔ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُونَ ۔ لے یعنی ایماندار وہ لوگ ہیں جو افو کاموں سے پر ہیز کرتے ہیں اور اپنا وقت بیہودہ کاموں میں نہیں کھوتے۔ تو پھر آپ ہی کیونکر بیہودہ کام کرتا جس حالت میں اپنی کتاب کی اس نے یہ تعریف کی ہے کہ اس کی شان میں فرمایا ہے وَالْقُرْآنِ الْحَكِيمِ - (۳۸۶) ل المؤمنون: يس :