براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 462
روحانی خزائن جلد ۱ ۴۶۰ براہین احمدیہ حصہ چہارم جس نے اس کی پیدائش میں ایسے عجائب غرائب کام کئے ہیں ۔ لیکن اس جگہ کوئی (۳۸۵) بے سمجھ آدمی یہ اعتراض کر سکتا ہے کہ خدا نے اس کام کو جس کی غرض معرفت الہی تھی ۔ ایسا ادق اور باریک کیوں بنایا ۔ جس کی سمجھ کے لئے ایک زمانہ دراز تک ۳۸۵ نمبراا بقیه حاشیه در حاشیه نمبر ہے۔ اس کا مالک بھی وہی اللہ قادر مطلق ہے اور وہ اس بات سے ہرگز عاجز نہیں کہ اپنی کامل جزا کو جو دن کی طرح روشن ہے ظہور میں لاوے۔ اور اس صداقت عظمیٰ کے ظاہر کرنے سے حضرت احدیت کا یہ مطلب ہے کہ تاہر ایک نفس پر بطور حق الیقین امور مفصلہ ذیل کھل جائیں ۔ اول یہ امر کہ جزا سزا ایک واقعی اور یقینی امر ہے کہ جو مالک حقیقی کی طرف سے اور اسی کے ارادہ خاص سے بندوں پر وارد ہوتا ہے اور ایسا کھل جانا دنیا میں ممکن نہیں کیونکہ اس عالم میں یہ بات عام لوگوں پر ظاہر نہیں ہوتی کہ جو کچھ خیر و شر و راحت و رنج پہنچ رہا ہے وہ کیوں پہنچ رہا ہے اور کس کے حکم و اختیار سے پہنچ رہا ہے۔ اور کسی کو ان میں سے یہ آواز نہیں آتی کہ وہ اپنی جزا پا رہا ہے۔ اور کسی پر بطور مشہود و محسوس منکشف نہیں ہوتا کہ جو کچھ وہ بھگت رہا ہے حقیقت میں وہ اس کے عملوں کا بدلہ ہے۔ دوسرے اس صداقت میں اس امر کا کھلنا مطلوب ہے کہ اسباب عادیہ کچھ چیز نہیں ہیں اور فاعل حقیقی خدا ہے اور وہی ایک ذات عظمی ہے کہ جو جمیع فیوض کا مبدء اور ہر یک جزا سزا کا مالک ہے۔ تیسرے اس صداقت میں اس بات کا ظاہر کرنا مطلوب ہے کہ سعادت عظمی اور شقاوت عظمی کیا چیز سے یعنی سعادت عظمیٰ وہ فوز عظیم کی حالت ہے کہ جب نور اور سرور اور لذت اور راحت انسان کے تمام ظاہر و باطن اور تن اور جان پر محیط ہو جائے اور کوئی عضو اور قوت اس سے باہر نہ رہے۔ اور شقاوت عظمیٰ وہ عذاب الیم ہے کہ جو باعث نافرمانی اور ناپاکی اور بعد کی طرح بے نقط یا با نقط عبارت میں اپنا کلام نازل کرتا ۔ کیونکہ یہ سب لغو حرکتیں ہیں ۔ جن میں کچھ بھی فائدہ نہیں ۔ اور حکیم مطلق کی شان اس سے بلند و برتر ہے کہ کوئی ۳۸۵) لغو شرکت اختیار کرے ۔ جس صورت میں اس نے آپ ہی فرمایا ہے ۔ وَالَّذِينَ هُم