براہین احمدیہ حصہ چہارم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 461 of 849

براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 461

روحانی خزائن جلد ۱ ۴۵۹ براہین احمدیہ حصہ چہارم ہیں ۔ انہوں نے زمانہ دراز تک تدبر اور تفکر کر کے ان صداقتوں کو دریافت کیا (۳۸۴ ہے ۔ اور ابھی صد ہادقائق اور حقائق ترکیب انسان کے ایسے بھی مخفی ہیں جن پر کسی حکیم کا ذہن آج تک محیط نہیں ہوا ۔ اور کچھ شک نہیں کہ ان دقائق اور حقائق سے اعلیٰ غرض یہ ہے کہ انسان اُس حکیم علی الاطلاق کی قدرت کاملہ کا اعتراف کرے صداقتوں میں یہ معنے بھی ملحوظ ہیں کہ رب العالمین وغیرہ صفتیں جو خدائے تعالیٰ میں پائی جاتی ہیں یہ اسی کی ذات واحد لا شریک سے خاص ہیں اور کوئی دوسرا ان میں شریک نہیں ۔ جیسا کہ اس سورۃ کے پہلے فقرہ میں یعنی الحمدللہ میں یہ بیان ہو چکا ہے کہ تمام محامد خدا ہی سے خاص ہیں ۔ دوسری صداقت رحمن ہے کہ جو بعد رب العالمین بیان فرمایا گیا ۔ اور رحمن کے معنے جیسا کہ ہم پہلے بھی بیان کر چکے ہیں یہ ہیں کہ جس قدر جاندار ہیں خواہ ذی شعور اور خواہ غیر ذی شعور اور خواہ نیک اور خواہ بد ۔ ان سب (۳۸۴ بقيه حاشیه در حاشیه نمبر کے قیام اور بقاء وجود اور بقائے نوع کے لئے اور ان کی تعمیل کے لئے خدائے تعالیٰ نے اپنی رحمت عامہ کے رو سے ہر یک قسم کے اسباب مطلوبہ میسر کر دیئے ہیں اور ہمیشہ میسر کرتا رہتا ہے اور یہ عطیہ محض ہے کہ جو کسی عامل کے عمل پر موقوف نہیں تیسری صداقت رحیم ہے کہ جو بعد رحمن کے مذکور ہے۔ جس کے معنے یہ ہیں کہ خدائے تعالی سعی کرنے والوں کی سعی پر بمنخصائے رحمت خاصہ ثمرات حسنہ مترتب کرتا ہے۔ تو بہ کرنے والوں کے گناہ بخشتا ہے۔ مانگنے والوں کو دیتا ہے ۔ کھٹکھٹانے والوں کے لئے کھولتا ہے۔ چوتھی صداقت جو سورۃ فاتحہ میں مندرج ہے۔ مالک یوم الدین ہے یعنی با کمال و کامل جزا سزا کہ جو ہر یک قسم کے امتحان و ابتلا اور توسط اسباب غفلت افترا سے منزہ ہے۔ اور ہر یک کدورت اور کثافت اور شک اور شبہ اور نقصان سے پاک ہے۔ اور تجلیات عظمی کا مظہر اختیار کر لیا۔ تو پھر ان کو قرآن شریف کی بلاغت سے کیا نسبت ۔ اور اس جگہ یہ بھی یا د رکھنا چاہئے ۔ کہ چونکہ قرآنی فصاحت بلاغت فضول طریقوں سے بکلی پاک اور منزہ ہے۔ پس (۳۸۴ اس صورت میں حکیم مطلق کی شان مقدس سے بالکل دور تھا کہ وہ فضول گو شاعروں