براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 408
روحانی خزائن جلد ۱ ۴۰۶ براہین احمدیہ حصہ چہارم ، نمبرا | ۳۲ ہیں ۔ تو اس صورت میں کس قدر حماقت ہے کہ یہ خیال کیا جائے کہ اس القا کی خداوند علیم مطلق کو ابتدائی زمانہ میں قدرت حاصل نہیں تھی کیونکہ جس حالت میں اس کی کی نہایت ضرورت تھی اور ان تعلیموں کو لایا جن کا دنیا میں پھیلانا دنیا کی اصلاح کے لئے نہایت ضروری تھا۔ غرض جن پاک تعلیموں کی بغایت درجہ ضرورت تھی اور جن معارف حقائق کے شائع کرنے کی شدت سے حاجت تھی۔ انہیں ضروری اور لابدی اور حقانی صداقتوں کو عین ضرورت کے وقتوں میں اور ٹھیک ٹھیک حاجت کے موقعہ میں ایک بے مثل بلاغت اور فصاحت کے پیرایہ میں بیان فرمایا اور باوصف اس التزام کے جو کچھ گمراہوں کی ہدایت کے لئے اور حالت موجودہ کی اصلاح کے لئے بیان کرنا واجب تھا۔ اس سے ایک ذرا ترک نہ کیا اور جو کچھ غیر واجب اور فضول اور بیہودہ تھا اس کا کسی فقرہ میں کچھ دخل ہونا نہ پایا۔ غرض وہ انوار اور پاک صداقتیں با وصف اس شان عالی کے کہ جو ان کو بوجہ اعلیٰ درجہ کے معارف ہونے کے حاصل ہے۔ ایک نہایت درجہ کی عظمت اور برکت یہ رکھتے ہیں کہ وہ عبث اور فضول طور پر ظاہر نہیں کی گئیں بلکہ جن جن اقسام انواع کی ظلمت دنیا میں پھیلی ہوئی تھی اور جس جس قسم کا جہل اور فساد علمی اور عملی اور اعتقادی امور میں حالت زمانہ پر غالب آ گیا تھا اس ہر یک قسم کے فساد کے مقابلہ پر پورے پورے زور سے ان سب ظلمتوں کو اٹھانے کے لئے اور روشنی کو پھیلانے کے لئے عین ضروری وقت پر باران رحمت کی طرح ان صداقتوں کو دنیا میں ظاہر کیا گیا اور حقیقت میں وہ باران رحمت ہی تھا کہ سخت پیاسوں کی جان رکھنے کے لئے آسمان سے اترا اور دنیا کی روحانی حیات اسی بات پر موقوف تھی کہ وہ آب حیات نازل ہو اور کوئی قطرہ اس کا ایسا نہ تھا کہ کسی موجود الوقت بیماری کی دوا نہ ہو اور حالت موجودہ زمانہ نے صد ہا سال تک اپنی معمولی گمراہی پر رہ کر یہ ثابت کر دیا تھا کہ وہ ان بیماریوں کے علاج کو خود بخود بغیر اتر نے اس نور کے حاصل نہیں کر سکتا اور نہ اپنی ظلمت کو آپ اٹھا سکتا ہے۔ بلکہ ایک آسمانی نور کا بے نظیر ہو سکتی ہے ۔ افسوس حضرات عیسائی ذرا نہیں سوچتے کہ اخلاقی امور کو کسی قدر شد و مد سے بیان کرنا اس بات کو مستلزم نہیں کہ انسان ایسی شد و مد سے بیان بقيه حاشیه در حاشیه نمبر