براہین احمدیہ حصہ چہارم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 407 of 849

براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 407

روحانی خزائن جلد 1 ۴۰۵ براہین احمدیہ حصہ چہارم بندوں پر القا کرتا ہے اور ایسی زبانوں میں الہام کر سکتا ہے جن زبانوں کا ان بندوں ۳۴۰) کو کچھ بھی علم حاصل نہیں جیسا کہ ہم حاشیہ در حاشیہ نمبر میں اس کا ثبوت دے چکے کے ہاتھ میں ہے کسی طور سے ضعیف الاعتبار نہیں ہوسکتا۔ بلکہ مخالفین کے سینکڑوں برسوں کی خاموشی اور لا جواب رہنے نے اس کو وہ کامل مرتبہ ثبوت کا بخشا ہے کہ جو گلاب کے پھول وغیرہ کو وہ ثبوت بے نظیری کا حاصل نہیں۔ کیونکہ دنیا کے حکیموں اور صنعت کاروں کو کسی دوسری چیز میں اس طور پر معارضہ کے لئے کبھی ترغیب نہیں دی گئی اور نہ اس کی مثل بنانے سے عاجز رہنے کی حالت میں کبھی ان کو یہ خوف دلایا گیا کہ وہ طرح طرح کی تباہی اور ہلاکت میں ڈالے جائیں گے۔ پس ظاہر ہے کہ جس بداہت اور چمک اور دمک سے قرآن شریف کی بلاغت اور فصاحت کا انسانی طاقتوں سے بلند تر ہونا ثابت ہے اس طرح پر گلاب کی لطافت اور رنگینی و غیرہ کا بے مثل ہونا ہرگز ثابت نہیں ۔ پس یہ تو سورۃ فاتحہ اور تمام قرآن شریف کی ظاہری خوبی کا بیان ہے جس میں اس کا بے مثل و مانند ہونا اور بشری طاقتوں سے برتر ہونا مخالفین کے عاجز رہنے سے بہ پایہ ثبوت پہنچ گیا ہے۔ اب ہم باطنی خوبیوں کو بھی دو ہرا کر ذکر کرتے ہیں تا اچھی طرح غور کرنے والوں کے ذہن میں آجائیں۔ سو جاننا چاہیے کہ جیسا خداوند حکیم مطلق نے گلاب کے پھول میں بدن انسان کے لئے طرح طرح کے منافع رکھے ہیں کہ وہ دل کو قوت دیتا ہے اور قومی اور ارواح کو تقویت بخشتا ہے اور کئی اور مرضوں کو مفید ہے۔ ایسا ہی خداوند کریم نے سورۃ فاتحہ میں تمام قرآن شریف کی طرح روحانی مرضوں کی شفا رکھی ہے اور باطنی بیماریوں کا اس میں وہ علاج موجود ہے کہ جو اس کے غیر میں ہر گز نہیں پایا گیا کیونکہ اس میں وہ کامل صداقتیں بھری ہوئی ہیں کہ جو روئے زمین سے نابود ہوگئی تھیں اور دنیا میں ان کا نام ونشان باقی نہیں رہا تھا۔ پس وہ پاک کلام فضول اور بے فائدہ طور پر دنیا میں نہیں آیا بلکہ وہ آسمانی نور اس وقت تجلی فرما ہوا جبکہ دنیا کو اس بقيه حاشیه در حاشیه کوئی عیسائی یہ رائے ظاہر نہیں کرتا کہ ہندو شاستر کی وہ تعلیم بے نظیر اور انسانی طاقتوں سے باہر ہے ۔ پھر انجیل کی تعلیم کہ جو علم اور عفو اور رحم کی تاکید میں اس سے کچھ بڑھ کر نہیں ۔ کیونکر (۳۴۱