براہین احمدیہ حصہ چہارم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 401 of 849

براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 401

روحانی خزائن جلد ۱ ۳۹۹ براہین احمدیہ حصہ چہارم } ، نمبراا اُس زمانہ کی نظیر میں اس زمانہ کے حالات پیش کرنا درست نہیں ہے۔ مثلاً اب کوئی نہایت باریک حقیقتیں کہ جو تکمیل نفس ناطقہ کے لئے ضروری ہیں ۔ اس کے مبارک مضمون میں بھری ہوئی ہیں اور ظاہر ہے کہ یہ کمالات بھی ایسے ہیں کہ گلاب کے پھول کے کمالات کی طرح ان میں بھی عادتا ممتنع معلوم ہوتا ہے کہ وہ کسی انسان کے کلام میں مجتمع ہوسکیں اور یہ امتناع نہ نظری بلکہ بدیہی ہے۔ کیونکہ جن دقائق و معارف عالیہ کو خدائے تعالی نے مین ضرورت حقہ کے وقت اپنے بلیغ اور فصیح کلام میں بیان فرما کر ظاہری اور باطنی خوبی کا کمال دکھلایا ہے اور بڑی نازک شرطوں کے ساتھ دونوں پہلوؤں ظاہر و باطن کو کمالیت کے اعلیٰ مرتبہ تک پہنچایا ہے۔ یعنے اول تو ایسے معارف عالیہ ضرور یہ لکھے ہیں کہ جن کے آثار پہلی تعلیموں سے مندرس اور محو ہو گئے تھے اور کسی حکیم یا فیلسوف نے بھی اُن معارف عالیہ پر قدم نہیں مارا تھا اور پھر ان معارف کو غیر ضروری اور فضول طور پر نہیں لکھا بلکہ ٹھیک ٹھیک اس وقت اور اس زمانہ میں ان کو بیان فرمایا جس وقت حالت موجودہ زمانہ کی اصلاح کے لئے ان کا بیان کرنا از بس ضروری تھا اور بغیر ان کے بیان کرنے کے زمانہ کی ہلاکت اور تباہی متصور تھی اور پھر وہ معارف عالیہ ناقص اور نا تمام طور پر نہیں لکھے گئے بلکہ کما و کیفاً کامل درجہ پر واقعہ ہیں اور کسی عاقل کی عقل کوئی ایسی دینی صداقت پیش نہیں کر سکتی جو ان سے باہر رہ گئی ہو اور کسی باطل پرست کا کوئی ایسا وسوسہ نہیں جس کا ازالہ اس کلام میں موجود نہ ہو ۔ ان تمام حقائق و دقائق کے التزام سے کہ جو دوسری طرف ضرورات حقہ کے التزام کے ساتھ وابستہ ہیں فصاحت بلاغت کے ان اعلی کمالات کو ادا کرنا جن پر زیادت متصور نہ ہو۔ یہ تو نہایت بڑا کام ہے کہ جو بشری طاقتوں سے بہ ہداہت نظر بلند تر ہے۔ مگر انسان تو ایسا بے ہنر ہے کہ اگر ادنی اور نا کارہ معاملات کو کہ جو حقائق عالیہ سے کچھ تعلق نہیں رکھتے کسی رنگین اور فصیح عبارت میں یہ التزام راست بیانی اور حق گوئی کے واقعہ ہو کہ جس کی نظیر پیش کرنے سے انسانی طاقتیں عاجز رہ جائیں ۔ آپ اپنے (۳۳۶) دعوی میں بار بار اسی بات پر زور دیتے ہیں کہ انجیل میں ہر جگہ اور ہر موقعہ میں عفو اور درگزر کرنے کے لئے تاکید ہے اور ایسی تاکید کسی دوسری کتاب میں نہیں ۔ بھلا بہت