براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 400
روحانی خزائن جلد ۱ ۳۹۸ براہین احمدیہ حصہ (۳۳۶ قانون سے باہر نکال کر قانون قدرت کو توڑنا سراسر جہالت اور نادانی ہے۔ ۳۳۵ ۳۳۵ موقعہ پر واقعہ ہے اور ہر یک قسم کا التزام جس سے حسن کلام بڑھتا ہے اور لطافت عبارت کھلتی ہے سب اس میں پایا جاتا ہے اور جس قدر حسن تقریر کے لئے بلاغت اور خوش بیانی کا اعلیٰ سے اعلیٰ درجہ ذہن میں آسکتا ہے وہ کامل طور پر اس میں موجود اور مشہود ہے اور جس قدر مطلب کے دل نشین کرنے کے لئے حسن بیان درکار ہے وہ سب اس میں مہیا اور موجود ہے اور باوجود اس بلاغت معانی اور التزام کمالیت حسن بیان کے صدق اور راستی کی خوشبو سے بھرا ہوا ہے۔ کوئی مبالغہ ایسا نہیں جس میں جھوٹ کی ذرا آمیزش ہو۔ کوئی رنگینی عبارت اس قسم کی نہیں جس میں شاعروں کی طرح جھوٹ اور ہنرل اور فضول گوئی کی نجاست اور بد بو سے مدد لی گئی ہو۔ پس جیسے شاعروں کا کلام جھوٹ اور ہنرل اور فضول گوئی کی بد بو سے بھرا ہوا ہوتا ہے یہ کلام صداقت اور راستی کی لطیف خوشبو سے بھرا ہوا ہے اور پھر اس خوشبو کے ساتھ خوش بیانی اور جودت الفاظ اور رنگینی اور صفائی عبارت کو ایسا جمع کیا گیا ہے کہ جیسے گلاب کے پھول میں خوشبو کے ساتھ اس کی خوش رنگی اور صفائی بھی جمع ہوتی ہے۔ یہ خوبیاں تو باعتبار ظاہر کے ہیں اور باعتبار باطن کے اس میں بھنے سورۃ فاتحہ میں یہ خواص ہیں کہ وہ بڑی بڑی امراض روحانی کے علاج پر مشتمل ہے اور تکمیل قوت علمی اور عملی کے لئے بہت سا سامان اس میں موجود ہے اور بڑے بڑے بگاڑوں کی اصلاح کرتی ہے اور بڑے بڑے معارف اور دقائق اور لطائف کہ جو حکیموں اور فلسفیوں کی نظر سے چھپے رہے اس میں مذکور ہیں۔ سالک کے دل کو اس کے پڑھنے سے یقینی قوت بڑھتی ہے اور شک اور شبہ اور ضلالت کی بیماری سے شفا حاصل ہوتی ہے اور بہت سی اعلیٰ درجہ کی صداقتیں اور سمجھ بیٹھے کہ جن نصیحتوں میں حلم اور درگزر کی تاکید مزید ہو وہ بے نظیر ہو جایا کرتی ہیں اور قومی بشریہ ایسی نصیحتوں کے بیان کرنے سے قاصر ہوتی ہیں ۔ یہی تو سمجھ کا پھیر ہے کہ اب تک آپ کو یہ بھی خبر نہیں کہ بے مثل و مانند کا لفظ کسی شے کی نسبت صرف انہیں حالتوں میں بولا جاتا ہے کہ جب وہ شے اپنی ذات میں ایسے مرتبہ پر