براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 399
روحانی خزائن جلد ۱ ۳۹۷ براہین احمدیہ حصہ چہارم ہر یک کام بغیر آمیزش اسباب معتادہ کے کیا جائے تو پھر بولیوں کو اس عام فائدہ مند ہے۔ پس انہیں دونوں طور کی خوبیوں کی وجہ سے اس کی نسبت اعتقاد کیا گیا ہے کہ وہ ایسے مرتبہ کمال پر واقعہ ہے کہ ہر گز کسی انسان کے لئے ممکن نہیں کہ اپنی طرف سے کوئی ایسا پھول بناوے کہ جو اس پھول کی طرح رنگ میں خوشنما اور خوشبو میں دلکش اور بدن میں نہایت تر و تازہ اور نرم اور نازک اور مصفا ہو اور باوجود اس کے باطنی طور پر تمام وہ خواص بھی رکھتا ہو جو گلاب کے پھول میں پائے جاتے ہیں اور اگر یہ سوال کیا جائے کہ کیوں گلاب کے پھول کی نسبت ایسا اعتقاد کیا گیا کہ انسانی قوتیں اس کی نظیر بنانے سے عاجز ہیں اور کیوں جائز نہیں کہ کوئی انسان اس کی نظیر بنا سکے اور جو خوبیاں اس کی ظاہر و باطن میں پائی جاتی ہیں وہ مصنوعی پھول میں پیدا کر سکے۔ تو اس سوال کا جواب یہی ہے کہ ایسا پھول بنانا عادتا ممتنع ہے اور آج تک کوئی حکیم اور فیلسوف کسی ایسی ترکیب سے کسی قسم کی ادویہ کو بہم نہیں پہنچا سکا کہ جن کے باہم مخلوط اور ممزوج کرنے سے ظاہر و باطن میں گلاب کے پھول کی سی صورت اور سیرت پیدا بقیه حاشیه در حاشیه نمبر ۳ ہو جائے ۔ اب سمجھنا چاہئے کہ یہی وجوہ بے نظیری کی سورۃ فاتحہ میں بلکہ قرآن شریف کے ہر یک حصہ اقل قلیل میں کہ جو چار آیت سے بھی کم ہو پائی جاتی ہیں ۔ پہلے ظاہری صورت پر نظر ۳۳۴ ڈال کر دیکھو کہ کیسی رنگینی عبارت اور خوش بیانی اور جودت الفاظ اور کلام میں کمال سلاست اور نرمی اور روانگی اور آب و تاب اور لطافت وغیرہ لوازم حسن کلام اپنا کامل جلوہ دکھا رہے ہیں۔ ایسا جلوہ کہ جس پر زیادت متصور نہیں اور وحشت کلمات اور تعقید ترکیبات سے بکلی سالم اور بری ہے۔ ہر ایک فقرہ اس کا نہایت فصیح اور بلیغ ہے اور ہر یک ترکیب اس کی اپنے اپنے اور ہر یک جگہ شر کے مقابلہ سے منع کیا ہے ۔ بلکہ بدی کے عوض نیکی کرنا لکھا ہے (۳۳۴ اور ایک گال پر طمانچہ کھا کر دوسری گال بھی پھیر دینے کا حکم ہے ۔ پس اس دلیل سے ثابت ہو گیا کہ وہ بے مثل و مانند اور انسانی طاقتوں سے برتر ہے۔ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ - اے حضرات ! یہ نئی منطق آپ کہاں سے لائے جس سے آپ یہ