براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 392
۳۲۸ روحانی خزائن جلد ۱ ۳۹۰ براہین احمدیہ حصہ چہارم ہے کہ جو آمیزش طبیعت اور سبب سے یہ کلی پاک اور خالص ربانی ارادہ سے نکلا کسی انسان کے لئے اس کے ایمان کی بنیاد نہیں ہو سکتی ۔ کیوں بنیاد نہیں ہوسکتی۔ اس کی دلیل پ یہ لکھتے ہیں کہ الہامی کتاب کے تسلیم کرنے سے پہلے ضرور ہے کہ خدا پر ایمان قائم کر لیا جاوے ہر ایک پیغمبر یارشی جس پر خدا کا کلام نازل ہوا اس نے کلام پر ایمان لانے سے پہلے متکلم کے وجود کو تسلیم کیا ہے کیونکہ کسی کلام پر ایمان لانے سے پہلے خود کلام کرنے والے کو مان لینا لازمی ہے۔ پس ظاہر ہے کہ پیغمبروں نے کلام کے نازل کنندہ کے وجود کا یقین بذریعہ اسی کلام کے حاصل نہیں کیا۔ بلکہ اس کلام کے نزول سے پہلے ہی ان کو اپنی اندرونی فطرت کی گواہی سے وہ یقین حاصل تھا۔ یہ دلیل پنڈت صاحب نے کلام الہی کے غیر ضروری ہونے پر گویا اپنی عقل کا تمام رس نچوڑ کر پیش کی ہے۔ لیکن ہر یک عاقل پر سوچنے سے ظاہر ہوگا کہ یہ پنڈت صاحب کا سراسر و ہم ہے کہ جو ان کے دل میں ایک صداقت کی غلط فہمی سے پیدا ہوا ہے اور وہ یہ ہے کہ پنڈت صاحب ان دونوں امروں متذکرہ ذیل کو اجتماع ضدین قرار دیتے ہیں۔ یعنے یہ کہ بے خبر بندہ پر جو خدا کی ذات اور صفات سے بے خبر ہے کلام الہی نازل ہوا اور ساتھ ہی وہ قادر خدا بذریعہ اپنی اس پاک کلام کے اپنے وجود پر آپ مطلع کرے یہ دونوں باتیں پنڈت صاحب کی نظر میں ضدین ہیں جو ایک جگہ جمع نہیں ہو سکتیں حالانکہ ان دونوں باتوں کا جمع ہونا کسی عاقل کے نزدیک اجتماع ضدین میں داخل نہیں۔ جس حالت میں انسان بھی اپنے کلام کے ذریعہ سے دوسرے انسان کو اپنے وجود سے اطلاع دے سکتا ہے تو پھر وہ اطلاع دہی خدائے تعالی سے کیوں غیر ممکن ہے کیا وہ پنڈت صاحب کے نزدیک اس بات پر قادر نہیں کہ بذریعہ اپنی کامل اور قادرانہ کلام کے جو تجلیات الوہیت پر مشتمل ہے اپنے وجود سے مطلع کرے۔ اور اگر پنڈت صاحب کے دل کو یہ وسوسہ پکڑتا ہے کہ جس قدر نبی آئے وہ بلا شبہ کلام الہی کے نازل ہونے سے پہلے خدا پر یقین رکھتے تھے ۔ پس اس سے ثابت ہے کہ وہ یقین انہیں کی فطرت اور عقل سے ان کو حاصل ہوا تھا لیکن واضح ہو کہ یہ وسوسہ محض قلت تدبر سے ناشی ہے