براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 393
روحانی خزائن جلد 1 ۳۹۱ براہین احمدیہ حصہ چہارم ہوا ہے تو پھر کیونکر بے ایمانوں کی طرح بولیوں کے بارہ میں خدا کو اس بات سے عاجز ۳۳۳ کیونکہ اس یقین کا باعث کسی طور سے مجرد عقل اور فطرت نہیں ہو سکتے ۔ انبیاء کسی جنگل میں اکیلے پیدا نہیں ہوئے تھے تا یہ کہا جائے کہ انہوں نے الہام پانے سے پہلے بذریعہ سلسلہ سماعی بھی جس کی الہام الہی سے بنیاد چلی آتی ہے۔ خدا کا نام نہیں سنا تھا اور صرف اپنی فطرت اور عقل سے خدا کے وجود پر یقین رکھتے تھے بلکہ بہ ہداہت ثابت ہے کہ خدا کے وجود کی شہرت اس کلام الہی کے ذریعہ سے دنیا میں ہوئی ہے کہ جو ابتدا زمانہ میں حضرت آدم پر نازل ہوا تھا۔ پھر بعد حضرت آدم کے جس قدر انبیا وقتا فوقتا زمانہ کی اصلاح کے لئے آتے رہے۔ ان کو قبل از وحی خدا کے وجود سے یاد دلانے والی وہی سماعی شہرت تھی جس کی بنیاد حضرت آدم کے صحیفہ سے پڑی تھی ۔ پس وہی سماعی شہرت تھی جس کو نبیوں کی مستعد اور پر جوش فطرت نے فی الفور قبول کر لیا تھا۔ اور پھر خدا نے بذریعہ اپنے خاص کلام کے مراتب اعلی یقین اور معرفت تک ان کو پہنچا دیا تھا اور اس نقصان اور قصور کو پورا کر دیا تھا کہ جو محض سماعی شہرت کی پیروی سے عائد حال تھا۔ ہم پہلے بھی لکھ چکے ہیں کہ خدائے تعالیٰ کے وجود کی شہرت بطور سماعی چلی آتی ہے۔ اور سماعی سلسلہ کی بنیاد وہ الہام ہے جو پہلے پہل خدائے تعالیٰ کی طرف سے حضرت آدم ابوالبشر کو ہوا تھا۔ اور اس پر دلیل یہی کافی ہے کہ یہ بات نہایت بدیہی ہے کہ ابتداء میں خداوند قادر مطلق کی ہستی کا پتہ اسی شے کے ذریعہ سے لگا ہے کہ جس میں اب بھی پتہ لگانے کی قدرت مستقلہ حاصل ہے سو وہ قدرت مستقلہ صرف کلام الہی میں پائی جاتی ہے کیونکہ اب بھی کلام الہی میں یه اقتدار موجود و مشہور ہے کہ وہ امور پنہانی پر جیسا کہ چاہئے صحیح صحیح اطلاع دے سکتا ہے اور گزشتہ خبریں بھی ظاہر کر سکتا ہے اور ذات باری کی غائبانہ بستی کا ٹھیک ٹھیک نشان بھی دے سکتا ہے اور اپنے طریق خارق عادت سے اس پر یقین بھی بخش سکتا ہے اور عالم ثانی کے حقائق اور کیفیتوں پر بھی مفصل طور پر مطلع کر سکتا ہے جیسا کہ اسی زمانہ میں ملہمین کے تجارب صحیحہ اس بات کی تصدیق کر رہے ہیں۔ لیکن یہ جو ہر عقل میں موجود نہیں ہے چنانچہ یہ بات یہ پایہ ثبوت پہنچ چکی ہے کہ جس بچہ نو پیدا کو سلسلہ (۳۲۹) سماعی کی تعلیم سے یہ کلی محروم رکھ کر صرف اس کی عقل پر اس کی خداشناسی کو چھوڑا جاوے تو وہ خدا