براہین احمدیہ حصہ چہارم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 387 of 849

براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 387

روحانی خزائن جلد 1 ۳۸۵ براہین احمدیہ حصہ چہارم جس میں اسباب معتادہ کی ذرہ آمیزش نہ تھی۔ اور اس زمانہ میں جو کچھ (۳۳۰ پنڈت صاحب کا ایسا الہام اور ایسی عقل جس نے پہلی دفعہ ہی ایسی رہزنی کی دوسرے لوگوں کی طبیعت کو کہ جو غفلت کے زمانوں میں اور صد ہا ظلمتوں کے وقت میں پیدا ہوئے ہیں کیونکر راہ راست پر لاوے گا کیونکہ یہ لوگ تو اپنے سلسلہ نوعی کی تازہ پیدائش سے بھی واقف نہیں ہیں اور باعث غلبہ حب دنیا اور طرح طرح کے فسادوں کی زندگی بھی مقدس نہیں رکھتے اور خدا کی قربت کے بھو کے اور پیاسے بھی نہیں بلکہ انسانی گورنمنٹ کی قربت کے بھوکے اور پیاسے ہیں ۔ پس جبکہ پنڈت صاحب کے خیالی الہام کا پاک زمانوں میں وہ اثر ہوا کہ مخلوق چیزوں کو خدا سمجھ بیٹھے تو اس تاریک زمانہ میں ایسے الہام کی یہ تاثیر ہونی چاہئے کہ لوگ خدا سے ہی انکار کریں ۔ غرض پنڈت صاحب جو ایسے خیالات کا نام الہام رکھتے ہیں جن سے با قراران کے ابتدا سے غلطی ہوتی چلی آئی ہے۔ یہ پنڈت صاحب کا خیال یا یوں کہو کہ ان کا (۳۴) خیالی الهام سراسر غلط اور جھوٹ ہے۔ اگر چہ انسانی خیالات کا علت العلل بھی خدا ہے ۔ اور خدا ہی دلوں میں ڈالتا ہے اور عقلوں کو راہ دکھاتا ہے ۔ لیکن وہ الہام کو جو حقیقت میں خدا کا پاک کلام اور اس کا آواز اور اس کی وحی ہے۔ وہ انسان کے فطرتی خیالات سے برتر و اعلیٰ ہے۔ وہ حضرت خدا تعالیٰ کی طرف سے اور اس کے ارادہ سے کاملوں کے دلوں پر نازل ہوتا اور خدا کا کلام ہونے کی وجہ سے خدا کی برکتوں کو اپنے ہمراہ رکھتا ہے۔ خدا کی قدرتوں کو اپنے ہمراہ رکھتا ہے۔ خدا کی پاک سچائیوں کو اپنے ہمراہ رکھتا ہے ۔ لاریب فیہ ہوتا اس میں ایک ذاتی خاصیت ہے۔ اور جس طرح خوشبو عطر کے وجود پر دلالت کرتی ہے اسی طرح و وہ خدا کی ذات اور صفات کے وجود پر قطعی اور یقینی دلالت کرتا ہے۔ لیکن انسان کے اپنے ہی خیالات یہ مرتبہ حاصل نہیں کر سکتے ۔ کیونکہ جس طرح انسان پر ضعف مخلوقیت ہے اسی طرح انسانی خیالات پر وہ ضعف غالب ہے ۔ جو کچھ قادر مطلق کے چشمہ سے نکلتا ہے وہ اور چیز ہے اور جو کچھ انسانی طبیعت سے پیدا ہوتا ہے وہ اور ہے ۔ مناسب ہے کہ پنڈت صاحب