براہین احمدیہ حصہ چہارم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 383 of 849

براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 383

روحانی خزائن جلد ۱ ۳۸۱ براہین احمدیہ حصہ چہارم طور پر بولیاں ایجاد ہو گئی ہوں اور کوئی خاص الہام نہ ہوا ہو۔ تو اس کا جواب یہ (۳۲۶) کے اس امر کو جو حقیقی سنیاس کی پہلی نشانی ہے۔ بچے طالبوں کی طرح قبول نہیں کیا ۔ بلکہ اس کے جواب میں قرآن شریف کی نسبت بعض کلمات اپنے خط میں ایسے لکھے کہ جو ایک بچے خدا ترس کی قلم سے ہرگز نہیں نکل سکتے ۔ معلوم ہوتا ہے کہ پنڈت صاحب کو صداقت حقانی سے صرف انکار ہی نہیں بلکہ عداوت بھی ہے ۔ ورنہ جس حالت میں تحقق وجود کلمات اللہ پر عقلی اور مشہودی طور پر ایک بھارا ثبوت دیا گیا ہے اور ہر طرح کے وساوس کی بیخ کنی کر دی گئی ہے اور ہر یک قسم کی تشفی اور تسلی کے لئے یہ عاجز ہر وقت مستعد کھڑا ہے۔ تو پھر بجر بغض اور عداوت ذاتی کے اور کونسی وجہ ہے جو پنڈت صاحب کو حق کے قبول کرنے سے روکتی ہے۔ اب یہ بھی دیکھئے کہ بمقابلہ ہماری تحقیقات کے پنڈت صاحب کے عذرات کیا کیا ہیں ۔ پہلے سب سے آپ یہ فرماتے ہیں کہ براہم لوگ الہام کے قائل تو ہیں۔ مگر جہاں تک وہ اپنے اصل معنوں اور طبعی طریقہ سے متعلق ہے۔ پھر طبعی طریقہ کی یہ تشریح کرتے ہیں کہ وہ کوئی کلام مقرر اور معین نہیں کہ جو بطور خارق عادت کسی کے دل پر نازل ہوتا ہو اور ایسے امور پر مشتمل ہوتا ہو کہ جو انسانی طاقتوں سے برتر ہوں بلکہ وہ معمولی خیالات ہیں کہ جو حسب مراتب ہرانسان کے دل میں خدا کی طرف سے گزرا کرتے ہیں ۔ کیونکہ خدا کی روح (۳۲۱) کامل و حاضر و ناظر و علت العلل ہونے کی وجہ سے ہر یک ذرہ اور ہر یک روح انسانی میں کام کرتی رہتی ہے۔ پس جو شخص جس قدر روحانی نعمتوں اور خدا کی قربت کا بھوکا اور پیاسا ہوتا ہے۔ جس قدر اندرونی زندگی کو مقدس رکھتا ہے۔ جس قدر اپنے تئیں خدا کے حوالے کرتا ہے اور جس قدر ادراک اور ایمان صاف رکھتا ہے اُسی قدر وہ اس طبعی فیض سے فیض یاب ہوتا ہے۔ اس فیض کی ابتدا اسی دن سے ہے جس دن سے انسان کی پیدائش ہے ۔ یہ الہام باطنی ہے کہ جو روح انسانی میں ہوتا ہے۔ اس لئے روح انسانی خدا کی زندہ الہامی کتاب ہے۔ پھر بعد اس کے فرماتے ہیں کہ چونکہ انسانیت میں نفسانیت بھی شامل ہے اس لئے