براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 384
روحانی خزائن جلد ۱ ۳۸۲ براہین احمدیہ حصہ چہارم ۳۲۷ ہے کہ ابتدا زمانہ کے لئے عام قانون قدرت یہی ہے کہ خدا نے ہر یک چیز کو اپنی ۳۲۲ حاشیه نمبر ا ا وہ خیالات جو انسانوں کے دلوں میں گزرتے ہیں جن کا نام برا ہم لوگوں کے نزدیک الہام یا القا ہے وہ اعتماد کلی کے لائق نہیں ہیں بلکہ براہم لوگ ان خیالات کی تصدیق کے لئے کہ جو صدق اور کذب دونوں کا احتمال رکھتے ہیں اخلاقی قوتوں کو کسوٹی قرار دیتے ہیں اور جس قوت کے ذریعہ سے یہ فیصلہ کرتے ہیں اس کو عقل کہتے ہیں ۔ یہ خلاصہ تقریر پنڈت صاحب ہے۔ اب ظاہر ہے کہ پنڈت صاحب کی ان تمام تقریروں سے مطلب یہ نکلتا ہے کہ جن چیزوں کا نام پنڈت صاحب اور ان کے بھائی الہام رکھتے ہیں ۔ وہ فقط عام خیالات ہیں کہ جو عام انسانوں کے دلوں میں عام طور پر گزرا کرتے ہیں ۔ اور جو با قرار پنڈت صاحب احتمال غلطی اور خطا سے خالی نہیں ہیں ۔ لیکن خدا کی کتابوں میں جس الہام کو خدا کا کلام اور وحی اللہ اور مخاطبات حضرت احدیت بولا جاتا ہے وہ نور ہی الگ ہے جو انسانی خیالات اور بشری طاقتوں سے برتر و اعلیٰ ہے۔ پنڈت صاحب اس نور آسمانی کی نسبت جو ایک غیبی آواز ہے جس میں انسان کے خیال اور اس کی طبیعت کا ایک ذرا دخل نہیں ہے ۔ یہ اعتقا در رکھتے ہیں کہ وہ بوجہ اس کے کہ نیچر کے برخلاف ہے ۔ اور ایک امر خارق عادت ہے اس لئے ممتنع اور محال ہے اور ہرگز جائز نہیں کہ خدا اپنا کلام کسی بشر پر نازل کرے ۔ بلکہ الہام انہیں خیالات کا نام ہے کہ جو عام طور پر لوگوں کے دلوں میں معمولی اور پیدائشی طریق پر اٹھا کرتے ہیں اور کبھی بچے اور کبھی جھوٹے اور کبھی صحیح اور کبھی غلط اور کبھی پاک اور کبھی ناپاک ہوتے ہیں۔ اور ان میں کوئی ایسی خصوصیت نہیں ہوتی کہ جو انسانی طاقتوں سے بلند تر ہو۔ بلکہ وہ تمام انسانی طاقتوں کی حد میں پیدا ہوتے ہیں اور انسانی طبیعت ان کا سرچشمہ ہے۔ لیکن افسوس ہے کہ پنڈت صاحب نے ان چند سطروں کے لکھنے میں اپنا وقت ناحق ضائع کیا ۔ اگر پنڈت صاحب اپنی اس تحریر سے پہلے کتاب ہذا کے حصہ سوم کے صفحہ ۲۱۲ ۲۱۳ و ۲۱۴ و ۲۱۵ کو ذرا غور سے پڑھ لیتے تو ان پر صاف کھل جاتا کہ اس قسم کے خیالات